تاثیر 17 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام):سیاست میں ہماری حصہ داری کے لئے ووٹر ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر احمد رضاموجودہ حکمران جماعت ہر سطح پر مسلمانوں کو ہراساں کرکے اپنی حکومت کو باقی رکھنے والے منصوبے پر مسلسل کام کر رہی ہے، تقریباً ایک سال سے حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی قیادت میں پورے بہار اڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال میں وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف تحریک چل ہی رہی ہے کہ الیکشن کمیشن نے حکمراں جماعت کے اشارے پر ووٹر ویری فکیشن کا نیا معاملہ لاکر تمام شہری کو ایک ساتھ پریشان کرنے کا کام کیا ہے اور اس میں دستاویز کی ایسی شرطیں ہیں جو الیکشن کمیشن کے دائرہ کار سے باہر ہے، یہ باتیں مفتی ارشد علی رحمانی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ مہدولی دربھنگہ نے امارت شرعیہ کے مہدولی دفتر میں میٹنگ میں کہیں، موصوف نے کہا کہ اگرچہ یہ پریشان کن کام ہے لیکن اس کو ترجیحی بنیاد پر کرنا انتہائی ضروری ہے اس لئے تمام لوگ وقت رہتے ہوئے اس کام کو ضرور کریں اور یاد رکھیں کہ اگر اس کام میں غفلت برتی گئی اور ووٹر لسٹ سے نام ہٹ گیا تو آئندہ شہریت پر خطرہ ہوگا۔ایڈوکیٹ محمد ممتاز عالم جنرل سکریٹری تنظیم امارت شرعیہ دربھنگہ نے کہا جمہوری ملک میں ووٹ ہی ہماری اصل طاقت ہے اس لئے وقت کے اندر اپنا اور اپنے محلہ کے ہر فرد کا نام ضرور درج کروائیں ۔مولانا عرفان احمد سلفی مدنی نے کہا ووٹرلسٹ میں ناموں کا اندراج انتہائی ضروری اس میں کمپیوٹر کے جانکار لوگوں کو اپنے علاقے کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ۔ڈاکٹر احمد رضا نے کہا کہ سیاست میں ہماری حصہ داری کے لئے ووٹر ہونا ضروری ہے اس لئے سب لوگوں کو اس کی فکر کرنی چاہیے ۔سید محمد جاوید اقبال نے کہا کہ اتنے حساس مسئلہ پر سپریم کورٹ کا اسٹے نہ لگانا انتہائی افسوسناک ہے ،لوگوں کو سب کام سے پہلے یہ کام کرنا چاہیے اور اپنا نام دستاویز کے مطابق ووٹر لسٹ میں درج کرنا چاہیے ۔قاری نسیم اختر قاسمی صدر تنظیم امارت شرعیہ شہر دربھنگہ نے کہا کہ ہم لوگ مسجد کے ائمہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اس طرف توجہ دلائیں ۔شرف عالم تمنا نے کہا کہ لوگ کہنے کے باوجود ٹال مٹول کرتے ہیں یہ افسوسناک بات ہے ۔نسیم اختر دیپ نے کہا کہ امارت شرعیہ کی طرف سے مسلسل اپیل کی جا رہی ہے لیکن لوگوں میں حرکت نہیں ہے جبکہ اس پر فوری کام کرنے کی ضرورت ہے ۔کلیم اللہ رحمانی نے کہا کہ ہم اپنے علاقے میں امیر شریعت کی ہدایت کے مطابق محنت کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ مولانا محمد نوشاد عالم اشاعتی، محمد نوشاد وغیرہ نے بھی مفید مشورے دئیے، میٹنگ کو کامیاب بنانے میں سعد ظفر اور حماد احمد نے اہم کردار ادا کیا ۔

