جرائم پیشہ افراد کے دل سے قانون کا خوف ختم

 

سیتامڑھی (مظفر عالم)
بہار میں قتل کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہا ۔ جرائم پیشہ افراد قانون کا خوف کھو چکے ہیں۔ وہ آسانی سے کسی کو اور جہاں چاہیں گولی مار کر فرار ہو جاتے ہیں۔ 17 جولائی کی صبح گینگسٹر چندن مشرا کو پارس اسپتال میں آسانی سے گولی مار دی گئی اس کے بعد ملزمان  سڑکوں پر جشن مناتے ہوئے نکل گئے ۔ دیر رات شرپسندوں نے سیتامڑھی ضلع کے باجپٹی تھانہ علاقے میں ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مرنے والے کی شناخت 25 سالہ آدتیہ سنگھ ٹھاکر کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ ڈمرہ تھانہ علاقے کے بیلی گاؤں کا رہنے والا تھا اور شراب کی اسمگلنگ اور قتل کے کیس میں مطلوب تھا۔ آدتیہ کمار بچپن سے ہی اپنے ماموں روشن کمار مشرا کے گھر رہتے تھے۔ یہ واقعہ جمعرات کی دیر شام باجپٹی کے بابونرہا گاؤں میں واقع سارہ کے پل کے قریب پیش آیا۔ قتل کی اطلاع ملتے ہی باجپٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کر دی۔ باجپٹی پولیس اسٹیشن انچارج سکھبندر نین نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کی مدد سے بدمعاشوں کی شناخت کی جارہی ہے۔ موقع سے 6 خول برآمد ہوئے ہیں۔ سیتامڑھی کے ایس پی امت رنجن نے کہا کہ آدتیہ ٹھاکر پر شراب کی اسمگلنگ اور قتل کے مقدمات چل رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل ذاتی تنازعہ کی وجہ سے ہوا ہے۔
واقعہ کے بعد گاؤں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ صدر اسپتال پہنچنے والے لواحقین نے شرپسندوں کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ساتھ ہی پولیس کو جائے وقوعہ پر ایک پارٹی کے شواہد بھی ملے ہیں۔ پولیس ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے۔
معلوم ہو کہ مقتول اور تینوں ملزمان ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے۔ پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ متوفی شراب کی اسمگلنگ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا اور باجپٹی اور ڈمرہ تھانے کے علاقوں میں مختلف مقدمات میں مطلوب تھا۔ اس کے علاوہ ایک ملزم پہلے بھی شراب کی اسمگلنگ سے متعلق کیس میں ملوث رہا ہے اور عدالتی حراست میں چلا گیا ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے دو چٹائیاں، ایک تکیہ اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں برآمد کی ہیں، جن میں سے کچھ میں شراب بھی تھی۔ اس کے علاوہ موقع سے 6 کارتوس بھی برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے کہا کہ اس ثبوت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تمام افراد موقع پر پارٹی کر رہے تھے اور ان میں جھگڑا ہو گیا جس کے نتیجے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔