سفارت کاری کا میدان کھلا ہے مگر جوابی کارروائی کیلئے بھی تیار ہیں: ایرانی صدر

تاثیر 15 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تہران،15جولائی:ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نئے امکانات کے دروازے کھولنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں ماضی کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران کو بہتر مستقبل کی جانب لے جانے والی راہ امید کی ازسرنو تعمیر، سیکھنے اور تبدیلی کے لیے آمادگی اور ایک ایسا راستہ ہے جو ہم آہنگی، ہمدردی اور عقل و فہم پر مبنی ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران آج بھی سفارت کاری کے دروازے کھلے ہونے پر یقین رکھتا ہے اور اس پْرامن راستے کو سنجیدگی سے اپنانا چاہتا ہے۔یہ بیان ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز نصیر زادہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے گزشتہ ماہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ طے پانے والے فائر بندی معاہدے پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔پیر کو ترکیہ اور ملائیشیا کے وزرائے دفاع سے الگ الگ گفتگو کے دوران جنرل نصیر زادہ نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مقصد نہ تو جنگ کے دائرے کو وسیع کرنا ہے اور نہ ہی خطے کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانا، تاہم اگر کسی جانب سے حملہ کیا گیا تو ایران ایک “فیصلہ کن اور تکلیف دہ” ردعمل دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران، فائر بندی پر بھروسہ نہیں کرتا، اسی وجہ سے اس نے ہر ممکنہ صورتِ حال کے لیے مختلف منظرنامے تیار کر رکھے ہیں۔اس دوران پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے معاون برائے امورِ رابطہ، جنرل ایرج مسجدی نے کہا کہ ایران مسلسل اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مصروف ہے، چاہے وہ جنگ کے دوران ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارہ روزہ جنگ ایران کے لیے ایک عملی مشق جیسی تھی جس نے دفاعی فضائی نظام، میزائل صلاحیت اور حملہ آور تیاریوں کے لحاظ سے ایران کو خود کو آزمانے اور بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا۔