فلم ادے پور فائلز پر پابندی لگانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا

تاثیر 14 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 14 جولائی: فلم ادے پور فائلز کی ریلیز پر پابندی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ پیر کو وکیل گورو بھاٹیہ نے جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ سے کیس کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ نے درخواست پر جلد سماعت کی یقین دہانی کرائی۔
10 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے فلم ‘ادے پور فائلز’ کی ریلیز پر عبوری روک لگا دی تھی۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے عرضی گزار کو ہدایت دی تھی کہ وہ 14 جولائی تک مرکزی حکومت کے سامنے فلم پر اپنے اعتراضات درج کرائیں۔عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کے اعتراضات موصول ہونے کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر فیصلہ کرے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کا فیصلہ آنے تک فلم کی ریلیز پر عبوری روک برقرار رہے گی۔
ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران سنسر بورڈ نے کہا تھا کہ اس نے فلم ‘ ادے پور فائلز’ کے قابل اعتراض حصے کو ہٹا دیا ہے۔ سنسر بورڈ کی اس اطلاع کے بعد ہائی کورٹ نے درخواست گزار اور سنسر بورڈ کے وکلاء￿ کے لیے فلم اور اس کے ٹریلر کی خصوصی نمائش کا حکم دیا تھا۔ پیر کو سماعت کے دوران سینئر وکیل کپل سبل نے عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ یہ فلم پوری طرح قابل اعتراض ہے اور اس میں ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔