تاثیر 18 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دہلی ہائی کورٹ نے، جمعرات (17 جولائی) کو تبلیغی جماعت کے حق میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔اس عبوری مگر اہم فیصلے میں مارچ، 2020 میں تبلیغی جماعت کے پروگرام سے متعلق 70 بھارتی شہریوں کے خلاف درج 16 مقدمات کو خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف قانونی نقطۂ نظر سے اہم ہے بلکہ سماجی اور سیاسی تناظر میں بھی گہرے اثرات کا حامل ہے۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا کی سربراہی میں عدالت نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے ،جو وبائی امراض ایکٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور فارنرز ایکٹ کے تحت ان 70 افراد کے خلاف عائد کیے گئے تھے۔ یہ مقدمات اس وقت درج کیے گئے، جب حضرت نظام الدین مرکز میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے پروگرام کے بعد کورونا وائرس کے کیسز میں اضا فہ کی افواہیں، گودی میڈیا کے ذریعہ بڑے زور و شور سے پھیلائی گئی تھیں۔
مانا جا رہا ہے کہ عدالت کا یہ عبوری فیصلہ، تبلیغی جماعت کے 70 افراد کے خلاف دائر 16 طرح کے مقدمات کے لئے ایک اہم موڑ ہے۔ یہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور انفرادی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایڈووکیٹ آشما منڈلا کی طرف سے دائر کردہ 16 عرضیوں میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ درج مقدمات غیر منصفانہ ہیں اور ان کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت نے بھی یہ مانا ہے کہ الزامات کی کوئی مضبوط بنیاد نہیںہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون کو ہر شہری کے حقوق کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص گروہ کو نشانہ بنانے کے لئے۔
واضح ہو کہ کورونا مدت میں تبلیغی جماعت کے پروگرام کو گودی میڈیا اور کچھ سیاسی حلقوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ کے طور پر پیش کیا تھا۔ تاہم، کل کایہ فیصلہ اس ذہنیت کو چیلنج کرتا ہے کہ ایک خاص مذہبی گروہ کو وبائی مرض پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مارچ 2020 میں کورونا وائرس کی صورتحال نئی تھی۔ پوری دنیا اس کے اثرات سے تقریباََ ناواقف تھی۔ تبلیغی جماعت کے پروگرام کے شرکاء نے دانستہ طور پر کوئی قانون نہیں توڑا تھا، بلکہ اس وقت کے حالات کے مطابق وہ لوگ مرکز میں منعقد ایک مذہبی اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ اس تناظر میں، عدالت کا فیصلہ ایک متوازن نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ اور یہی انصاف کا تقاضہ بھی تھا۔
دہلی پولیس کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملزمان نے لاک ڈاؤن کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئےغیر ملکی شہریوں کو پناہ دی گئی ہے۔ لیکن عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ محض اجتماع میں شرکت یا غیر ملکیوں کی میزبانی کو جرم قرار دینے کےلئے خاطر خواہ ثبوت موجود نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہر حال میں قانون کا رویہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہونا چاہیے، نہ کہ سماجی یا سیاسی دباؤ کا شکار۔
ظاہر ہے، دہلی ہائی کورٹ کایہ فیصلہ تبلیغی جماعت کے لئے ایک بڑی فتح ہے اور ہر اس شہری کے لئے امید کی کرن ہے، جو غیر منصفانہ الزامات کا سامنا کر رہا ہو۔ یہ فیصلہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ وبائی حالات میں اجتماعی ذمہ داری اہم ہے، لیکن اسے کسی ایک گروہ پر الزام تراشی کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس فیصلے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ عدالتیں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔بلا شبہ تبلیغی جماعت کے خلاف عائد ان بے بنیاد الزامات نے مسلم کمیونٹی کو غیر ضروری طور پر بدنام کیا۔اس سے سماجی تقسیم کو ہوا ملی۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس تقسیم کو کم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
ظاہر ہے، دہلی ہائی کورٹ کا یہ عبوری فیصلہ بھارت کے عدالتی نظام کی آزادی اور غیر جانبداری کی علامت ہے۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ قانون ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ فیصلہ مستقبل میں اس طرح کے معاملات میں ایک مثال قائم کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وبائی یا دیگر ہنگامی حالات میں کسی گروہ کو غیر ضروری طور پر نشانہ نہ بنایا جائے۔ دہلی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ انصاف، برابری اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک روشن مثال ہے، جو ہمیں ایک منصفانہ اور ہم آہنگ معاشرے کی طرف گامزن ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔

