ایران نے حزب اللہ کی شکست کے بعد یورینیم کی افزودگی تیز کر دی ہے: نیتن یاھو کا دعویٰ

تاثیر 13 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تہران،13جولائی:اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ حزب اللہ اور اس سے وابستہ گروہوں کی شکست کے بعد ایران نے یورینیئم کی افزودگی کے عمل میں تیزی لائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کئی برسوں تک تہران کے جوہری منصوبے میں پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔نیتن یاھو نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے “فاکس نیوز” کو ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھاکہ “ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کو سالوں تک مؤخر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، مگر ہم ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جس میں یورینیئم کی افزودگی کا حق شامل نہ ہو۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے کچھ نکات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی عسکری صلاحیتوں، بالخصوص بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی بھی صورت بات چیت نہیں کرے گا۔عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایران ہر حال میں اپنی عسکری صلاحیتوں کو برقرار رکھے گا اور یہ صلاحیتیں کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کا یورینیئم کی افزودگی کا حق ہر ممکن معاہدے کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ ان کے بہ قول “ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جس میں افزودگی کا حق شامل نہ ہو۔عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف دوبارہ عالمی پابندیاں عائد کرنے کے لیے “زناد” (Snapback) میکانزم کو فعال کرنے کا اقدام یورپی کردار کے اختتام کا باعث بنے گا۔