اسرائیل اور امریکہ قطر میں غزہ جنگ بندی سے متعلق ہونے والے مذاکرات سے دستبردار

تاثیر 25 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،25جولائی:اسرائیل اور امریکہ کے مذاکرات کاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے، واشنگٹن نے حماس پر ’نیک نیتی سے کام نہ کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ایک بیان میں امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’ہم نے حماس کی جانب سے تازہ ترین ردعمل کے بعد مشاورت کے لیے اپنی ٹیم کو دوحہ سے وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔حماس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مذاکرات میں شامل تمام فریقین بشمول ثالث اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اہم معاملات پر مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں وٹکوف نے کہا کہ ’اگرچہ ثالثوں نے بہت کوشش کی ہے لیکن حماس نیک نیتی سے کام کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب ہم یرغمالیوں کو وطن واپس لانے اور غزہ کے عوام کے لیے زیادہ محفوظ اور مستحکم ماحول پیدا کرنے کے لیے متبادل آپشنز پر غور کریں گے۔‘
امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نہ کہ ا کہ ’یہ بہت شرم کی بات ہے کہ حماس نے اس خود غرضانہ انداز میں کام کیا ہے۔ ہم اس تنازعے کے خاتمے اور غزہ میں مستقل امن کے خواہاں ہیں۔‘اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ابھی تک عوامی طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ اسرائیلی مذاکرات کار دوحہ سے کیوں واپس جا رہے ہیں۔‘
تاہم سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں کوئی خلل نہیں پڑا۔