یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر اسرائیل نے 60 بموں سے نشانہ بنایاگیا : اسرائیلی فوج

تاثیر 7 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،07جولائی:اسرائیلی فوج نے آج پیر کے روز اپنے جنگی طیاروں کی وڈیوز جاری کی ہیں جنھوں نے یمن میں حوثی اہداف پر فضائی حملوں کے دوران الحدیدہ، ریس عیسیٰ اور الصلیف کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا۔ فوج کے مطابق ان حملوں میں 20 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر 60 بم گرائے گئے۔اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حملے میں حوثیوں کے زیر قبضہ … کار بردار جہاز “گلیکسی لیڈر” کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے حوثیوں نے کئی ماہ قبل ضبط کر لیا تھا۔یہ فضائی حملے پیر کی صبح کیے گئے، اور ان کا ہدف یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ بندرگاہیں اور تنصیبات تھیں۔ اس کے بعد حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا۔یہ کشیدگی اتوار کو اس وقت بڑھی جب بحیرہ احمر میں لائبیریا کے پرچم والے ایک تجارتی جہاز پر حملہ ہوا، جس سے جہاز میں آگ لگ گئی اور وہ پانی میں ڈوبنے لگا۔ اس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔یونان کے زیر ملکیت اس جہاز’ماجک سیز‘ پر حملے کی فوری ذمہ داری حوثیوں پر ڈالی گئی، خاص طور پر اس وقت جب ایک سیکیورٹی کمپنی نے رپورٹ کیا کہ یہ جہاز بظاہر پہلے ہلکے ہتھیاروں اور راکٹ گولوں سے نشانہ بنایا گیا، اس کے بعد بارود سے بھرے ڈرونز سے حملہ ہوا۔حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر دوبارہ حملوں کا آغاز امریکا اور مغربی افواج کو اس خطے میں دوبارہ مداخلت پر مجبور کر سکتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی حوثیوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا آغاز کر چکے ہیں۔