جھانگُر بابا کیس: میڈیا، بلڈوزر جسٹس اور آئینی اصول

تاثیر 13 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران میڈیا کی رپورٹنگ نے متوازن معلومات کی فراہمی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس صورتحال سے  سماجی و سیاسی ماحو ل بری طرح سے متاثرہو رہا ہے۔ بلرام پور، اتر پردیش کے جھانگر بابا عرف جلال الدین شاہ کا کیس اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کیس میں غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے الزامات، بلڈوزر کے ذریعے حکومتی کارروائی اور میڈیا کی سرگرمیوں نے عجیب و غریب حالات پیدا کر دئے ہیں۔ اس تناظر میں، یہ ضروری ہے کہ ہم اس معاملے کو غیر جانبداری سے دیکھیں اور حقائق کو مبالغہ آرائی سے الگ کریں۔
جھانگر بابا پر غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے الزامات ہیں، جن کے تحت اتر پردیش کی اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ(اے ٹی ایس)نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر موجود پوسٹس کے مطابق، ان کے بینک اکاؤنٹس میں مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈنگ اور 200 کروڑ روپے کی جائیداد کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ان کے گھر کو سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا ہے۔ تاہم، یہ الزامات ابھی تک عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے، اور مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اس صورتحال میں، میڈیا کی جانب سے جھانگر بابا کو’’مذہبی تبدیلی کا ماسٹر مائنڈ‘‘ یا’’اسلامک ایجنڈے‘‘ کا حصہ قرار دینا قبل از وقت ہے۔ ایسی رپورٹنگ سے عوام میں ایک خاص پرسپشن بنتا ہے، جو سماجی ہم آہنگی کے لئے نقصان دہ ہے۔
اتر پردیش میں بلڈوزر جسٹس، جو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ایک متنازعہ موضوع بن چکا ہے۔ جھانگر بابا کے گھر پر بلڈوزر چلانے کی کارروائی کو سرکاری زمین کی بازیابی سے جوڑا گیا، لیکن اس کی رفتار اور میڈیا ٹرائل نے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بلڈوزر کارروائیوں پر اپنے حالیہ فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے سے قبل مناسب قانونی عمل کی پیروی ضروری ہے، اور کسی بھی کارروائی کو انتقامی یا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہاہے کہ ایسی کارروائیاں قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہئیں، نہ کہ عوامی جذبات یا میڈیا کے دباؤ کے تحت۔ بدقسمتی سے، جھانگر بابا کے کیس میں عدالتی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی کارروائی کی گئی، جو قانون کی بالادستی پر سوالات اٹھاتی ہے۔
اس تناظر میں بریلی کے بابا کے کے شنکھدھر کا معاملہ بھی اہم ہے۔ X پر موجود پوسٹس کے مطابق، ان پر بھی غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے الزامات ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی بلڈوزر کارروائی یا سخت اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ تفاوت ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت برابری کے حق کی خلاف ورزی کا سوال اٹھاتا ہے، جو ہرایک شہری کو قانون کے سامنے مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر ایک معاملے میں فوری کارروائی کی جاتی ہے اور دوسرے میں خاموشی اختیار کی جاتی ہے، تو یہ آئینی اصولوں پر عمل درآمد میں عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کارروائیاں قانونی معیارات کے بجائے سیاسی یا سماجی دباؤ پر مبنی ہو سکتی ہیں۔
میڈیا کا کردار اس معاملے میں غیر جانبداری سے بہت دور رہا ہے۔ کئی رپورٹس میں جھانگر بابا کے خلاف الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، جیسے کہ’’100 کروڑ کے ڈارک سیکریٹس ‘‘یا ’’سلامک ایجنڈا‘‘جیسے دعوؤں کو بغیر ٹھوس ثبوت کے شائع کیا گیا۔ اس کے برعکس، کچھ پوسٹس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا کہ یہ کارروائی مقامی دشمنی یا سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ میڈیا کی یہ یک طرفہ رپورٹنگ نہ صرف عدالتی عمل کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوام میں خوف اور تقسیم کو بھی ہوا دیتی ہے۔
دوسری جانب، ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر الزامات درست ہیں، تو غیر قانونی مذہبی تبدیلی ایک سنگین جرم ہے اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔ لیکن اس کے لئے آزادانہ تحقیقات اور عدالتی فیصلے کا انتظار ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، بلڈوزر کارروائیوں کو شفاف اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دینا چاہئے، تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی ہو، نہ کہ عوامی یا سیاسی دباؤ کا مظاہرہ۔
آخر میں، جھانگر بابا کا کیس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ میڈیا اور حکومتی اقدامات کو غیر جانبداری اور قانون کی پاسداری کے اصولوں پر عمل کرنا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں اور آئینی اقدار کی روشنی میں، ہر شہری کو منصفانہ سماعت کا حق ہے، اور میڈیا کو چاہئے کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرے، نہ کہ سنسنی خیزی پھیلائے۔ عوام کو بھی چاہئے کہ وہ خبروں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں اور عدالتی فیصلے کا انتظار کریں۔ اسی طرح ایک منصفانہ اور متوازن معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔
*****