ممتا بنرجی کی آزمودہ سیاسی حکمت عملی

تاثیر 21 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی سیاست ایک بار پھر زبان اور شناخت کے گرد نئے تنازعات کی زد میں ہے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے حال ہی میں کولکتہ میں منعقدہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی شہید دیوس ریلی میں بنگالی زبان اور شناخت کا کارڈ کھیلتے ہوئے بی جے پی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہےکہ بی جے پی کی زیر قیادت ریاستیں بنگالی بولنے والوں کو ہراساں کر رہی ہیں، اور اسے روکنے کے لئے انہوں نے ایک ’زبان کے تحریک‘ کا اعلان کیا ہے۔ ممتا کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب مہاراشٹرا میں ہندی۔مراٹھی زبان کا تنازعہ جاری ہے، اور وہ بی جے پی کے زیر انتظام علاقوں میں بنگالی تارکین وطن کی گرفتاریوں کے خلاف پہلے ہی احتجاجی مارچ کی قیادت کر چکی ہیں۔ یہ سیاسی حکمت عملی 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل بنگالی شناخت کو ایک جذباتی نعرے کے طور پر ابھارنے کی کوشش ہے۔
ممتا نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ وہ تمام زبانوں کا احترام کرتی ہیں، چاہے وہ ہندی ہو، گجراتی ہو یا مراٹھی، لیکن بنگالی زبان کو نشانہ بنانے کے خلاف ان کا غصہ عیاں تھا۔ ا ن کا کہنا ہے کہ بنگال کے لوگوں نے آزادی کی تحریک اور نو جاگرن میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور بنگالی زبان اس تاریخی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بنگالیوں کو نہ صرف ان کی زبان بلکہ ان کی شناخت کی بنیاد پر بھی ہراساں کر رہی ہے۔ ممتا نے اعلان کیا ہے کہ اگر بنگالی بولنے والوں کی گرفتاریاں جاری رہیں تو وہ دہلی تک احتجاج کریں گی۔ ٹی ایم سی کے رہنما ابھیشیک بنرجی نے بھی پارلیمنٹ میں بنگالی زبان میں خطاب کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جو اس تحریک کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں تھی بلکہ ایک جذباتی اپیل تھی، جس میں ممتا نے شہید دیوس کے موقع پر بنگالی شناخت کو مرکز میں رکھا۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)اور اسپیشل انٹینسیو ریوژن (ایس آئی آر) جیسے اقدامات کے ذریعے بنگال کے ووٹرز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر بھی تنقید کی، جو ان کے بقول اپنے صوبے کو سنبھالنے کے بجائے بنگال کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ ممتا کا یہ دعویٰ کہ امریکی صدر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کو کنٹرول کرتے ہیں، ایک غیر معمولی الزام ہے، جو سیاسی بیان بازی کی حدوں کو چھوتا ہے۔
دوسری جانب، بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ ممتا بنگالی شناخت کے نام پر غیر قانونی تارکین وطن کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا ہےکہ ان کی حکومت غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، نہ کہ بنگالیوں کے خلاف۔ یہ تنازعہ نہ صرف زبان بلکہ شناخت اور ووٹ بینک کی سیاست کو بھی عیاں کرتا ہے۔
ممتا کی یہ حکمت عملی ان کی، 2021 کے اسمبلی انتخابات کی یاد دلاتی ہے۔ اس وقت انہوں نے ’بنگلہ نجر مییکے چھائے‘ (’بنگال اپنی بیٹی کو چاہتا ہے‘) کے جذباتی نعرے کے ذریعے بنگالی شناخت اور مقامی فخر کو اجاگر کیا تھا۔ اس نعرے نے عوام میں گہرا اثر چھوڑا اور ترنمول کانگریس کو بی جے پی کے مقابلے میں شاندار کامیابی دلائی۔ موجودہ تناظر میں بھی ممتا اسی طرح بنگالی شناخت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں تاکہ 2026 کے انتخابات سے قبل ووٹرز کو متحرک کیا جائے۔لیکن اس بار بی جے پی کی جارحانہ حکمت عملی اور’ ہندوتوا‘ کے بیانیے کے مقابلے میں ممتا کا بنگالی شناخت کا کارڈ کتنا موثر ہوگا، یہ ایک سوال ہے۔ اگرچہ یہ ریلی عوامی جذبات کو بھڑکانے میں کامیاب رہی، لیکن اس سے سیاسی پولرائزیشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ ممتا کو چاہیے کہ وہ اپنی تقریروں میں اتحاد پر زور دیں، نہ کہ تقسیم کو ہوا دیں، کیونکہ بھارت جیسے متنوع ملک میں زبان اور شناخت کے تنازعات طویل مدت تک سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔چنانچہ 2026 کے اسمبلی انتخابات اس امر کے امتحان ثابت ہونگے کہ آیا ممتا بنرجی لگاتار چوتھی بار مغربی بنگال کی باگ ڈور سنبھالنے میں کامیاب ہوتی ہیںیا بی جے پی ان کی اس سیاسی حکمت عملی کو اپنے حق میں موڑ لیتی ہے۔
*********