قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح

تاثیر 30 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پاکستان کے زیرِ اہتمام دہشت گردی اور اس کے خلاف بھارت کی فوجی کارروائیوں کا معاملہ حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ میں شدت سے گونج رہا ہے۔ آپریشن سندور، جو پاکستانی دہشت گردی کے خلاف بھارت کی ایک بڑی فوجی کارروائی تھی، نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ پی ایم نریندر مودی اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے بیانات نے اس معاملے کو مزید گرم کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں مودی نے اس آپریشن کو بھارت کی فوجی طاقت اور خودمختاری کا مظہر قرار دیا ہے، وہیں اپوزیشن نے اسے حکومت کی ناکامیوں اور کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
پی ایم نریندر مودی نے لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران آپریشن سندور کو ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 9 اور 10 مئی کی رات پاکستانی فوجی طاقت کو ’’تہس نہس‘‘ کیا گیا اور دہشت گردوں کے اڈوں کو نیست و نابود کر دیا گیا۔ مودی نے اس آپریشن کو نہ صرف بھارت کی فوجی صلاحیتوں کا ثبوت قرار دیا بلکہ اسے’’میک ان انڈیا‘‘ کے ہتھیاروں کی کامیابی سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے بھارت کی اس کارروائی کی حمایت کی، جبکہ صرف تین ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ مودی نے اس موقع پر کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کی کارروائیوں کی حمایت کرنے میں ناکام رہی اور ماضی میں اس کی پالیسیوں نے پاکستان کو فائدہ پہنچایا ہے۔
دوسری جانب، کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے آپریشن سندور کے دوران حکومت کی پالیسیوں اور ناکامیوں پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ راہل گاندھی نے پہلگام دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری براہ راست پاکستانی حکومت پر عائد کی ہےاور بھارتی فوج کی بہادری کی ستائش کی ہے۔ تاہم، انہوں نےپی ایم اور موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور پاکستانی فوج کے سربراہ کی ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی سفارتی کوششیں کمزور ہیں۔ راہل نے الزام لگایا کہ آپریشن سندور کے دوران فوج کو مکمل آزادی نہیں دی گئی اور حکومت کی پالیسیوں نے دہشت گردوں کو یہ موقع دیا کہ وہ بھارت کو جنگ میں گھسیٹ سکیں۔ انہوں نے چین اور پاکستان کے گٹھ جوڑ کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے اس کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔
اسی طرح، پرینکا گاندھی نے جذباتی اور جارحانہ انداز میں پہلگام حملے کو خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شہدا کے خاندانوں کو انصاف دینے کے بجائے حکومت تاریخی واقعات کا سہارا لے رہی ہے۔ پرینکا نے خاص طور پر پہلگام حملے کے شہدا کے خاندانوں کا درد بیان کیا اور کہا کہ یہ واقعہ حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ماضی کی یو پی اے حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد ذمہ داری قبول کی گئی تھی، لیکن موجودہ حکومت اس سے گریز کر رہی ہے۔
مذکورہ دونوں نقطہ ہائے نظر ایک پیچیدہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک طرف، مودی حکومت آپریشن سندور کو اپنی فوجی اور سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے حکومت کی ناکامیوں اور کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ دونوں فریقین کے دلائل میں کچھ نہ کچھ سچائی موجود ہے۔ بھارت کی فوج نے یقینی طور پر آپریشن سندور کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ پاکستانی دہشت گردی کے اڈوں پر حملے اور فضائی دفاعی نظام کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، اپوزیشن کا یہ سوال بھی بجا ہے کہ پہلگام جیسے حملے کیسے ممکن ہوئے؟ خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی اور حکومت کی پالیسیوں کی کمزوریوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مذکورہ دونوں متضاد خیالات اور ایک دوسرے پر الزامات کے درمیان ملک کے عام لوگوں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاسی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ آپریشن سندور جیسے حساس معاملات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے، حکومت اور اپوزیشن کو مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط اور متحدہ حکمت عملی بنانی چاہیے۔ پاکستانی دہشت گردی ایک حقیقت ہے، لیکن اس سے نمٹنے کے لئے صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہیں۔ مضبوط سفارتی کوششیں، خفیہ معلومات کی بہتر نگرانی، اور بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آپریشن سندور بھارت کی فوجی طاقت کا ایک اہم مظہر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اپنی خامیوں کو تسلیم کرے اور مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ قوم کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کو ترجیح دیں۔ عوام کو نہ صرف فوجی کامیابیوں کی کہانیاں سنائی جائیں بلکہ انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی جائے کہ ان کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
******************