نیتن یاہو حکومت کو شدید دھچکا،چھ اتحادی ارکان پارلیمان مستعفی، حکومت سے علاحدگی کا اعلان

تاثیر 15 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،15جولائی:یہودی مذہب کے حوالے سے انتہائی کٹر خیالات رکھنے والی اسرائیلی جماعتوں نے ایک بار پھر انتباہ کیا ہے کہ نیتن یاہو کی مخلوط حکومت سے الگ ہونے جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک کے ارکان پارلیمان نے استعفے بھی دے دیے ہیں۔ حکومتی اتحاد سے نکلنے کی وجہ مذہبی یہودی نوجوانوں کے لیے لازمی فوجی خدمات سے استثنا کا زیر التوا بل منظور نہ کیا جانا بتائی گئی ہے۔اسرائیل میں آباد کٹر یہودی آبادی مجموعی آبادی کے 13 فیصد کے قریب ہے۔ یہی وہ یہودی کمیونٹی ہے جس کی آبادی میں اضافہ سب دیگر اسرائیلیوں کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے۔ ان کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اپنے یہودی نظریات کی وجہ سے ان میں دوسرے مذاہب کے افراد کے لیے نرمی کم ہے اور اسرائیلیوں کو جنگ پر ابھارنے میں پیش پیش رہتے ہیں مگر اپنے نوجوانون کو جنگوں میں جھوکنے کو تیار نہیں ہوتے۔اب ان کا یہی مطالبہ نیتن یاہو کی حکومت سے راستہ جدا کرنے کا سبب بتایا گیا ہے۔
یاد رہے ان آرتھوڈاکس اور کٹر مذہبی یہودی آبادی کو اسرائیل میں لازمی فوجی خدمات سے استثنا ملا رہا ہے۔ لیکن غزہ جنگ کے طویل اور سنگین تر چیلنج کی وجہ سے اسرائیلی عدالت نے ان کا یہ استثنا ختم کر دیا ہے۔ لیکن یہ حکمران اتحاد میں شامل انتہا پسند جماعتیں چاہتی ہیں کہ ان یشوا سٹوڈنٹس پر یہ لازمی فوجی بھرتی کی پابندی ختم کی جائے۔ان انتہا پسند جماعت یونائٹڈ تورہ جوڈزم کے سات ممبران پارلیمنٹ میں سے چھ ارکان پارلیمنٹ نے ایک خط لکھ کر اپنے استعفے پیش کر دیے ہیں