تاثیر 21 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بیتیا، 21 جولائی : جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے واضح طور پر کہا ہے کہ جن سوراج کوئی روایتی سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں لیڈروں کو بھی اپنی اہلیت ثابت کرنی ہوگی۔ امیدواروں کو امتحان دینا ہوگا اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوں گے تو انہیں الیکشن لڑنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے اسے یو پی ایس سی اور بی پی ایس سی جیسے امتحان نظام سے جوڑا ہے اور اسے ایک نئی سیاسی سوچ قرار دیا ہے۔
سرکٹ ہاوس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران پرشانت کشور نے کہا کہ ملک کی سیاست میں آج تک کوئی ایسی پارٹی نہیں رہی جو لیڈروں کا امتحان لیتی ہو۔ لیکن جن سوراج اس روایت کو توڑ رہی ہے۔ پارٹی میں صرف ان لوگوں کو ٹکٹ ملے گا جو امتحان میں کامیاب ہوں گے۔ یہ امتحان امیدواروں کی سمجھ، پالیسی، قائدانہ صلاحیت اور سماجی سوچ کو جانچنے کے لیے لیا جائے گا۔
ایک مثال دیتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ جس طرح لاکھوں نوجوان یو پی ایس سی اور بی پی ایس سی امتحانات میں حصہ لیتے ہیں اور کامیاب ہو کر افسر بنتے ہیں، اسی طرح جن سوراج بھی امیدواروں کا امتحان لے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب سیاست بھی ایک سنگین ذمہ داری ہے، جس کے لیے معیار مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جن سوراج اس بات کا اندازہ لگا رہی ہے کہ کون سے امیدوار اسمبلی انتخابات کے لیے اہل ہیں اور کون وارڈ کونسلر یا پردھان کے عہدے کے لیے موزوں ہے۔ جو شخص جس عہدے کے لیے قابل ہو، اسے اسی سطح کا ٹکٹ دیا جائے گا۔ پارٹی منظم طریقے سے ہر امیدوار کی صلاحیت کا جائزہ لے رہی ہے۔
پرشانت کشور نے کہا کہ جو لوگ امتحان میں کامیاب نہیں ہوں گے، انہیں سب سے نچلی سطح یعنی وارڈ کونسلر کا انتخاب لڑا دیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اس کے مطابق کام کرے۔

