تاثیر 7 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ضلع دربھنگہ کےموضع ککوڑھا گاؤں میں ہوئے حادثہ کی جگہ امارت شرعیہ کے وفد کی حاضری : ارشدرحمانی
دربھنگہ(فضا امام)-گذشتہ 9؍محرم کو تعزیہ جلوس کے موقع پر دربھنگہ کے تارڈیہ بلاک کی بڑی مشہور آبادی ککوڑھا میں گیارہ ہزار ہائی وولٹیج تار کے جھنڈا میں ٹکڑا کر ٹوٹ جانے سے بڑا حادثہ پیش آیا جس میں دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلہ بھڑک گئے اوربڑی تعداد میں لوگ جھلس گئے اورچندافراد زخمی ہوگئے دوران علاج معراج احمد نام کے نوجوان کا انتقال بھی ہو گیا، اس سانحہ کی خبرسے ہی دار القضاء امارت شرعیہ مہدولی دربھنگہ کے قاضی شریعت کو ملی انہوں نے فوراً حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہ قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی اور قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی اور دیگر ذمّہ داران کو اطلاع دی سبھوں نے اس واقعہ پر اظہار افسوس کیا اور حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ انسانی زندگی میں اس طرح کے واقعات دل دہلا دینے والے ہیں اس لئے ایک وفد امارت شرعیہ سے جائے واردات جائے اور لوگوں کو دلاسہ دے اور انہیں یقین دلائے کہ امارت شرعیہ کا ہر فرد ان حضرات کے غم میں برابرکاشریک ہے اور جہاں ضرورت ہو امارت کے خدام ان کے تعاون کے لیے بھی تیار رہیں گے ۔حضرت امیر شریعت کی ہدایت پر قاضی القضاة امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب کی قیادت میں مولانا محمد شعیب عالم قاسمی مبلغ امارت شرعیہ پٹنہ مفتی ارشد علی رحمانی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ دربھنگہ اور حافظ اسامہ پر مشتمل ایک وفد ککوڑھا جنازہ میں شرکت اظہار تعزیت اور مزاج پرسی کے لئے پہونچا، پہلے مرحلہ میں حضرت قاضی شریعت نے حادثہ میں وفات پانے والے نوجوان معراج احمد کے گھر پہونچ کر ان کے اہل خانہ کو تسلی دی اور ان سے کہا کہ مصیبتوں پر صبر کرنا ہی مومن کی شان ہے اس لئے آپ لوگ صبر کے ساتھ اللّٰہ کے فیصلے پر راضی رہیں انہوں نے امیر شریعت کاتعزیتی پیغام بھی سنایا اس موقع پر مرحوم کے والد فیض محمد رضوی صاحب کے علاوہ الحاج ڈاکٹر نور محمد ،الحاج ماسٹر نیاز محمد رضوی ،پروفیسر سراج محمد رضوی ، ماسٹر جنید صاحب مولانا مشتاق احمد ندوی صاحب حافظ جمال صاحب۔ قاری شبیہ صاحب۔ فہیم نور۔ آرزو،حسرت اور مفتی اختر رشید قاسمی سکریٹری تنظیم امارت شرعیہ تارڈیہ بلاک موجود تھے،اس کے بعد کئی مریضوں سے وفد نے ملاقات کیا اور ان کی مزاج پرسی کی اور ان کی صحت و عافیت کے لئے دعائیں کی ۔مرحوم کی نماز جنازہ آٹھ بجے شب میں ہوئی نماز جنازہ سے قبل مفتی ارشد علی رحمانی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں ہونے والے حادثہ نے پوری ملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن یاد رکھیں کہ یہ سب مرضی مولیٰ ہے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہی مومن کی شان ہے،مصائب سے عبرت حاصل کرنا چاہیے اور زندگی کا ہر قدم یہ سوچ کر اٹھانا چاہیے کہ نہ جانے اگلا قدم اٹھانے کا موقع ملے یا نہ ملے، موصوف نے کہا کہ مرنے والے کے لیے مغفرت اور جنت الفردوس کی دعا کیجئے جو لوگ جھلس گئے ہیں یا زخمی ہیں ان کی صحت کے لیے دعائیں کیجئے جو لوگ زیر علاج ہیں ان کے اچھے علاج کے لیے سماجی طور پر اجتماعی کوشش کیجئے اور دربھنگہ سے پٹنہ تک جہاں امارت شرعیہ کے تعاون کی ضرورت ہو ضرور رابطہ کیجئے انشاء اللہ آپ کی پوری مدد کی جائے گی ۔حضرت قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور ہزاروں پرنم آنکھوں کے ساتھ مرحوم نوجوان کو سپردِ خاک کیا گیا۔واضح رہے کہ یہ بڑا حادثہ کہیں نہ کہیں شعبہ برقیات کی غفلت اورسستی کی وجہ سےبھی پیش آیاکہ اکثر اس موقعہ پر برقی کنکشن معطل کردیئے جاتے رہےہیں مگر اس موقعہ پرتساہلی برتی گئ اس لئے حضرت قاضی شریعت نے حکومت مطالبہ کیا کہ حکومت اس کی ذمّہ داری قبول کرتے ہوئے مرنے والے کے اہل خانہ میں سے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت دے اورجولوگ زخمی ہیں ایسے مریضوں کے بہتر علاج کا نظم کرائے اوراس بات کویقینی بنائے کے اس طرح کے حادثے آئندہ رونمانہ ہوں۔امارت شرعیہ کے وفد کی آمد سے جناب فیض محمد رضوی ان کے اہل خانہ اور پورے گاؤں کے لوگوں کو حوصلہ ملا اور ان لوگوں نے حضرت امیر شریعت کا شکریہ ادا کیا ۔

