بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے ریاست کے ہر گھرانے کو 125 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ فیصلہ رواں ماہ جولائی 2025 سے ہی نافذ العمل ہے۔ یہ اقدام، جو ریاستکے ایک کروڑ 67 لاکھ گھرانوں کو فائدہ پہنچائے گا، نہ صرف غریب اور متوسط طبقے کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے بلکہ بہار کے ترقیاتی سفر میں ایک اہم سنگ میل بھی ہے۔ اس اسکیم کے تحت، جو گھرانے 125 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں کوئی بل ادا نہیں کرنا ہوگا۔ اگرچہ اضافی یونٹس کے بیلنگ نظام کے بارے میں ابھی مکمل وضاحت نہیں کی گئی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ یہ اسکیم غریب خاندانوں کےلئے معاشی بوجھ کم کرے گی اور انہیں زندگی کے بنیادی اخراجات سے نجات دلائے گی۔ یہ فیصلہ بہار جیسے زرعی صوبے میں، جہاں بجلی کی دستیابی اور لاگت ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہے، ایک انقلابی قدم ہے۔
واضح ہو کہ ’کٹیر جیوتی ‘ اسکیم کے تحت بہار دیہی گھرانوں کو فی یونٹ 1.97 روپے کی شرح سے بجلی ملتی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 4.52 روپے فی یونٹ ہے۔ ایک کروڑ 82 لاکھ صارفین میں سے 91 فیصد سے زائد گھرانے 125 یونٹ سے کم استعمال کرتے ہیں، جو اس اسکیم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ دیہی غریبوں کے لئے، جن کےلئے بجلی کا بل اکثر بوجھ بن جاتا ہے، یہ اسکیم ایک بڑی راحت ہے۔ اس سے نہ صرف گھریلو اخراجات کم ہوں گے بلکہ تعلیم، صحت اور چھوٹے کاروباریوں کے لئے وسائل بھی بچائے جا سکیں گے۔ مثال کے طور پر، دیہی علاقوں میں طلبہ رات کو بجلی کی دستیابی سے تعلیم پر زیادہ توجہ دے سکیں گے، جبکہ چھوٹے کاروباریوں، جیسے سلائی یا دوسری دکانوں کے لئے بجلی کی لاگت کم ہونے سے آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ غریبوں کی معاشی خودمختاری کو تقویت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
نتیش کمار نے اسے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اعلان کیا کہ اگلے تین سالوں میں ہر گھرانے کی چھتوں یا قریبی عوامی مقامات پر سولر پینل لگائے جائیں گے۔’ کٹیر جیوتی‘ کے تحت انتہائی غریب خاندانوں کے لئے یہ تنصیبات مکمل طور پر حکومتی خرچ پر ہوں گی، جبکہ دیگر کے لئے مناسب سبسڈی دی جائے گی۔ اس سے بجلی کے اخراجات ختم ہوں گے اور تین سالوں میں 10 ہزار میگاواٹ سولر انرجی پیدا کرنے کا ہدف حاصل ہوگا۔ یہ منصوبہ نہ صرف ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دیتا ہے بلکہ بہار کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ دیہی علاقوں میں بجلی کی دستیابی سے زراعت، چھوٹے کاروبار اور گھریلو ضروریات کو تقویت ملے گی۔ یہ خاص طور پر خواتین کے لئے فائدہ مند ہوگا، جو گھریلو کاموں کے لیے بجلی پر انحصار کرتی ہیں، جیسے کہ پانی پمپنگ یا کھانا پکانے کے برقی آلات وغیرہ۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، اس اسکیم کے لئے 3375 کروڑ روپے کی اضافی سبسڈی مختص کی جائے گی، جو مجموعی طور پر 19370 کروڑ روپے تک پہنچے گی۔ یہ ایک بڑی مالی وابستگی ہے، جو نتیش کمار کی سماجی فلاح اور معاشی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، اسکیم کی کامیابی شفاف عملداری، اضافی یونٹس کے بیلنگ نظام کی وضاحت اور سولر تنصیبات کی بروقت تکمیل پر منحصر ہے۔ اگر یہ
منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ غریب گھرانوں کے لیے معاشی استحکام اور بہتر معیار زندگی کا باعث بنے گا۔ یہ فیصلہ بہار کے غریبوں کےلئے امید کی کرن ہے، جو روزمرہ کے اخراجات کے بوجھ سے دبے ہیں۔ تعلیم کے لئے روشنی، گھریلو سہولیات اور کاروباری مواقع سے غریب طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ نتیش کمار کا یہ اقدام نہ صرف سیاسی حکمت عملی کے طور پر اہم ہے بلکہ سماجی انصاف، معاشی مساوات اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی ہے۔ بہار کے عوام کے لئے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اس روشنی سے اپنے مستقبل کو روشن کریں۔جب سے کل نتیش حکومت کے اس فیصلے کی خبر عام ہوئی، سب کی زبان پر یہ جملہ ہے،’بہار میں اب بجلی کی بہار ہے‘۔
******************

