!…. تاکہ جمہوری عمل کی ساکھ پر آنچ نہیںآئے

تاثیر 14 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار میں 25 جون سے جاری ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹنسیو ریویژن (ایس آئی آر) نے پوری ریاست میں افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ گراؤنڈ زیرو پر صورتحال انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ امیونریشن فارم کی تکمیل میں بنیادی خامیوں، خصوصاً کم و بیش 15 فیصد ووٹرز کے درست پتے کی عدم دستیابی کی وجہ سے، بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) تمامتر کوششوں کے باوجود، فارم متعلقہ افراد تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ بعض علاقوں سے شکایتیںمل رہی ہیں کہ بیشتر نئےبی ایل اوز، جو غیر تربیت یافتہ ہیں، متعدد ووٹرز تک امیونریشن فارم پہنچانے، ان سے باضابطہ طور پر فارم بھروانے، اور پھر انہیں جمع کرکے اپ لوڈ کرنے کے عمل میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ یومیہ مزدور طبقہ، جو اپنی روزمرہ کی کمائی کے لئے جدوجہد کرتا ہے، اپنا فارم بی ایل اوز تک پہنچانے سے قاصر ہے، دور پردیش یا غیر ممالک میں رہ کر اپنے بچوں کی پرورش کرنے والے محنت کش مزدور وں کے لئے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔بھرے ہوئےامیونریشن فارمزکو آن لائن اپلوڈ کرنے کی آخری تاریخ 25 جولائی ہے۔
اِدھرسرکاری دعوؤں کے برعکس، زیادہ تر بی ایل اوز ووٹرز کو فارم بھرنے کے درست طریقے سے آگاہ کرنے میں ناکام ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، کئی بی ایل اوز پر الزام ہے کہ وہ اپنے اہداف پورے کرنے اور نوکری بچانے کے لئے خود ہی فارم بھر کر جمع کر رہے ہیں، جو کہ شفافیت اور جوابدہی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ جیسے جیسے 25 جولائی کی ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے، بی ایل اوز پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے ایس آئی آر کی کوالٹی کا متاثر ہونا فطری ہے۔ یہ صورتحال اس خدشے کو جنم دے رہی ہے کہ اگر پہلا مرحلہ ہی ٹھیک ڈھنگ سے مکمل نہ ہوا تو یکم اگست کو شائع ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں بے تحاشہ غلطیاں موجود ہو سکتی ہیں۔ اس کا منفی اثر حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت پر بھی پڑ سکتا ہے، جو کہ اس عمل کا آخری اور اہم مرحلہ ہے۔
ایس آئی آر کی موجودہ صورتحال کا سب سے زیادہ شکار کم پڑھے لکھے اور غریب طبقہ کے ووٹرز ہیں، جن میں ہندو اور مسلم دونوں شامل ہیں۔ خاص طور پر 2003 کے بعد ووٹ دینے کے اہل ہونے والے نوجوان، جو میٹرک پاس نہیں ہیں اور روزگار کے لئے دوسرے صوبوں یا غیر ممالک چلے گئے ہیں، ان کے لئے یہ عمل مزید پیچیدہ ثابت ہو رہاہے۔ دلت، پسماندہ اور سماجی طور پر دبے کچلے طبقات اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جو ترقی کے چکاچوندھ کے دعوؤں کے باوجود حاشیے پر زندگی گزار رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کو مقررہ مدت میں کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا جائے گا، لیکن گراؤنڈ زیرو پر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بی ایل اوز پر دباؤ ہے کہ وہ فارم اپ لوڈ کرنے میں تاخیر نہیں کریں، بلاک لیول پر بھی کام کو جیسے تیسے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے بہار کے باشعور عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر راشن کارڈ اور آدھار کارڈ، جو دیگر سرکاری مقاصد کے لئے درست ہیں، کو ایس آئی آر کے لئے ناکارہ کیوں قرار دیا گیا ہے؟ یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ کچھ بااثر قوتیں جان بوجھ کر کم پڑھے لکھے اور غریب طبقات کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہیں، تاکہ صرف ایک خاص نظریے کے حامل افراد کی ووٹر لسٹ میں شمولیت کی راہ ہموار ہوسکے۔
اس تناظر میں الزام یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ ایس آئی آر کے حوالے سے ، جب الیکشن کمیشن سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو اس کا جواب بی جے پی اور این ڈی اے سے وابستہ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔سیاسی شعور رکھنے والے عوام کا ایک بڑا حصہ الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار پر بھی سوالات اٹھا ررہا ہے۔ گیانیش کمار کے ماضی کے ٹریک ریکارڈ پر بھی تنقیدیں کی جا رہی ہے۔
بہار کے زمینی حقائق سے باخبرلوگوں کا کہنا ہے کہ اگر 2003 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنا کر موجودہ لسٹ کی خامیوں کو دور کیا جا رہا ہے، تو اس عرصے میں ہونے والے تمام انتخابات کی صداقت بھی مشکوک ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا الیکشن کمیشن اس بات کی گارنٹی لے سکتا ہے کہ ایس آئی آر کے تمام مراحل خامیوں سے پاک ہوں گے اور ایک بھی جائز ووٹر کا نام حتمی ووٹر لسٹ سے خارج نہیں ہوگا؟
بہر حال سپریم کورٹ نے اس معاملے پر حال ہی میں تبصرہ کیا ہے اور اگلی سماعت میں کئی اہم پہلوؤں پر غور متوقع ہے۔ عدالت سے توقع ہے کہ وہ اس افراتفری کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن سے ٹھوس اقدامات کے لئے مشورہ دے گی۔ بہار کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ووٹر لسٹ کے عمل کو آسان، شفاف اور منصفانہ بنایا جائے، تاکہ کوئی بھی شہری اپنے ووٹ کے حق سے محروم نہ ہو۔ یہ وقت ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے دعوؤں کو عملی شکل دے اور گراؤنڈ زیرو پر موجود تمامتر خامیوں کو فوری طور پر دور کرے، تاکہ جمہوری عمل کی ساکھ پر ذرہ برابر بھی آنچ نہیں آئے پائے۔