جج بننے کے لیے تین سال وکالت لازمی کرنے کے معاملے میں ایک اور نظرثانی کی درخواست

تاثیر 16 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 16 جولائی :سپریم کورٹ میں ایک اور نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں جج بننے کے لیے بطور وکیل تین سال کے تجربے کی شرط کو بحال کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ کے 20 مئی کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
نئی درخواست سینئر ایڈوکیٹ کولن گونسالویس نے دائر کی ہے۔ گونسالویس کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے پانچ لاء کمیشنوں کی رپورٹ پر غور نہیں کیا، جس نے متفقہ طور پر جج بننے کے لیے بطور وکیل تین سال کی پریکٹس کی شرط کو مسترد کر دیا۔ درخواست میں دوسرے جوڈیشل پے کمیشن 2022 کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ایسی کسی بھی ذمہ داری کو لاگو کرنے سے پہلے تمام فریقین سے مشاورت پر زور دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایڈوکیٹ چندرسین یادو نے نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے جس میں سپریم کورٹ سے اپنے 20 مئی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا ہے۔ 20 مئی کو چیف جسٹس بی آر گو ئی کی سربراہی میں بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ جج بننے کے لیے بطور وکیل تین سال کا تجربہ لازمی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ وکالت کا تجربہ وکیل کے باقاعدہ اندراج کی تاریخ سے درست ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ حکم ان ہائی کورٹس پر لاگو نہیں ہوگا جنہوں نے 20 مئی سے پہلے ججوں کی تقرری کا عمل شروع کیا ہے۔ لیکن 20 مئی کے بعد تین سال کا تجربہ لازمی ہوگا۔