تشار گاندھی کا بھاگلپور دورہ: خانقاہ پیر دمڑیہ شاہ مارکیٹ خلیفہ باغ میں پرتپاک استقبال، امن، انصاف اور تبدیلی پر زور

تاثیر 19 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھاگلپور (منہاج عالم ) ) موہن داس کرم چند گاندھی کے پڑپوتے،معروف سماجی کارکن اور فکری رہنما تشار گاندھی “بدلو بہار – نئی سرکار” نامی مہم کے تحت بھاگلپور پہنچے۔ ان کا استقبال ضلع کے مختلف سیکولر اور جمہوریت پسند شہریوں و سماجی کارکنوں نے بڑے پرتپاک اور والہانہ انداز میں کیا۔ تشار گاندھی کا یہ دورہ نہ صرف عوامی بیداری کا مظہر تھا بلکہ اس سے موجودہ سیاسی حالات پر عوام کے خیالات اور جذبات کی عکاسی بھی ہوئی۔مختلف مقامات پر استقبال،خانقاہ پیر دمڑیہ میں خصوصی تقریب تشار گاندھی کے اعزاز میں شہر کے مختلف مقامات پر استقبالی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔وہ جہاں بھی پہنچے، لوگوں نے انہیں عزت و احترام سے نوازا۔ خاص طور پر خانقاہِ پیر دمڑیہ شاہ مارکیٹ  خلیفہ باغ میں ان کے اعزاز میں ایک خصوصی روحانی و سماجی تقریب کا انعقاد کیا گیا،جہاں خانقاہ کے سجادہ نشین حضرت سید شاہ فخر عالم حسن نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔اس روح پرور موقع پر سجادہ نشین نے گاندھی جی کے عظیم تصور و تعلیمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی امن،عدم تشدد اور قومی یکجہتی کے علمبردار تھے۔ انہوں نے نہ صرف ملک کو آزادی دلائی بلکہ پوری دنیا کو سچائی اور عدم تشدد کا راستہ دکھایا۔ تشار گاندھی ان ہی کے نسل سے ہیں، اور ایسے نازک وقت میں جب ملک بے چینی، تقسیم اور ناانصافی کے دور سے گزر رہا ہے،ان جیسی شخصیات کا عوام سے رابطہ قائم کرنا نہایت خوش آئند ہے۔اس خصوصی تقریب میں سجادہ نشین کی جانب سے تشار گاندھی کو گاندھی جی کے تصور پر مبنی ایک خوبصورت یادگاری ایوارڈ پیش کیا گیا۔اس کے علاوہ انہیں
ریشمی چادر سے نوازا گیا اور گل دستہ پیش کر ان کی عزت افزائی کی گئی۔اس روحانی ماحول میں دعائیں مانگی گئیں اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔اس موقع پر تشار گاندھی نے ملک کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ‘بدلو بہار  نئی سرکار’ کے تحت بھاگلپور پہنچا ہوں اور جہاں جہاں جا رہا ہوں، وہاں لوگوں کی آنکھوں میں تبدیلی کی امید دیکھ رہا ہوں۔عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مایوس اور پریشان ہیں۔لوگ دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایسے میں یہ مہم ایک نئی راہ دکھانے کی کوشش ہے۔انہوں نے خانقاہ پیر دمڑیہ کے فلاحی، سماجی اور تعلیمی شعبوں میں سرگرمیوں کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ میں یہاں آ کر بے حد متاثر ہوا ہوں۔یہ خانقاہ نہ صرف روحانی تربیت کا مرکز ہے بلکہ معاشرتی خدمت کا بھی ایک نمونہ ہے۔میں سجادہ نشین حضرت فخر عالم حسن کو ان کے قیمتی کاموں پر دلی مبارکباد دیتا ہوں اور دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔اس بابرکت موقع پر علاقے کے متعدد سماجی کارکن، دانشور، نوجوان، اور صحافی بھی موجود تھے جنہوں نے تشار گاندھی کے خیالات کو سراہا اور ملک میں جمہوریت، سماجی انصاف اور ہم آہنگی کی بحالی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ دورہ صرف ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک اہم علامت ہے کہ گاندھیائی افکار آج بھی زندہ ہیں اور عوام میں بیداری پیدا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ایسے دور میں جب معاشرہ تقسیم اور نفرت کی سیاست سے دوچار ہے،تشار گاندھی جیسے افراد کی آواز ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتی ہے۔