سپریم کورٹ کے دو اہم فیصلے

تاثیر 19 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال ہی میں دو اہم فیصلوں کے ذریعے قانون کی بالادستی اور احتساب کے عزم کو تقویت بخشی ہے۔ ایک طرف، عدالت نے ’زمین کے بدلے نوکری‘ معاملے میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کے خلاف مقدمے کی کارروائی روکنے سے انکار کیا ہے، جبکہ دوسری طرف دہلی کے چاندنی چوک میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ دونوں فیصلے نہ صرف عدالتی نظام کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی بدعنوانیوں سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن نقطۂ نظر کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ ان فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدالت نہ صرف قانون کے نفاذ کو یقینی بناتی ہے بلکہ انسانی اور سماجی عوامل کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔
سپریم کورٹ نے 18 جولائی، 2025 کولالو پرساد یادو کی ایک عرضی مسترد کر دی، جس میں انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے 29 مئی، 2024 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی جانب سے درج ایف آئی آر اور مقدمے کی کارروائی کو روکنے سے انکار کیا تھا۔ یہ معاملہ 2004 سے 2009 کے دوران لالو پرسادکے ریلوے منسٹر ہونے کے دور سے متعلق ہے، جب ریلوے کے گروپ ۔ڈی عہدوں پر تقرریوں کے بدلے امیدواروں یا ان کے خاندانوں نے زمینیں لالو کے خاندان یا ان کے قریبی رشتہ داروں کے نام منتقل کیں۔ سی بی آئی نے اس سلسلے میں لالو پرساد،  ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، بیٹی میسا بھارتی سمیت 16 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے۔
لالو پرساد کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے دلیل دی کہ سی بی آئی نے بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 17اے کے تحت ضروری منظوری کے بغیر تحقیقات شروع کیں، جو قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔ تاہم، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ یہ قانون 2018 کے ترمیمی ایکٹ سے پہلے کے جرائم پر نافذ نہیں ہوتا ہے۔ ججز ایم ایم سندریش اور این کوٹیسور سنگھ کی بنچ نے معاملے کے میرٹس میں جانے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ عبوری حکم میں مداخلت نہیں کریں گے۔ تاہم، عدالت نے لالو کی عمر اور صحت کے پیش نظر انہیں مقدمے کے دوران ذاتی طور پر پیش ہونے سے استثنیٰ دیا اور دہلی ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست پر جلد سماعت کرے۔ یہ فیصلہ سیاسی رہنماؤں کے احتساب کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے، لیکن ساتھ ہی یہ انسانی ہمدردی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ عدالت کا یہ متوازن فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قانون کی سختی کے ساتھ ساتھ انصاف کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، چاندنی چوک میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سخت رویہ اپنایاہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ججز سوریا کانت اور جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے دہلی پولیس اور میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کو غیر قانونی تعمیرات روکنے اور متاثرہ جائیدادوں کو سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جو کوئی بھی غیر قانونی طور پر ایک اینٹ بھی رکھے گا، اسے فوراً گرفتار کیا جائے۔ یہ فیصلہ چاندنی چوک کے فتحپوری علاقے میں رہائشی مکانات کو کمرشل کمپلیکس میں تبدیل کرنے کے خلاف جاری قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔اسے عدالت نے ایم سی ڈی حکام کی ملی بھگت سے جاری ایک ’بڑا گھوٹالہ‘ قرار دیا ہے۔ جج سوریا کانت نے دہلی پولیس سے کہا کہ وہ روزانہ گشت کریں اور غیر قانونی سرگرمیوں پر فوری عمل کریں، ورنہ پولیس کو بھی عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ شہری انتظامیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
یہ دونوں فیصلے عدالتی نظام کے متوازن کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔ لالو کے معاملے میں، عدالت نے قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی صحت کے پیش نظر نرمی دکھائی ہے، جو انصاف کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ دوسری طرف، چاندنی چوک کے معاملے میں، عدالت نے انتظامی بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔ یہ دونوں فیصلے نہ صرف قانون کے نفاذ کو یقینی بناتے ہیں بلکہ سماجی انصاف اور انتظامی شفافیت کے لئے عدلیہ کے عزم کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی بنیاد ہیں، جہاں قانون کی حکمرانی ہر شہری کے لئے تحفظ اور انصاف کی ضمانت دیتی ہے۔
************