تاثیر 11 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
نیویارک،11جولائی:اقوامِ متحدہ کی ایک آزاد تفتیش کار اور غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کی واضح ناقد نے جمعرات کو کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان پر پابندیاں عائد کر دیں لیکن وہ جنگ کے بارے میں اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم ہیں۔مغربی کنارے اور غزہ کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں کہا، طاقتور انہیں اس لیے خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بے بس لوگوں کا دفاع کر رہی ہیں جن کے پاس خاموشی سے کھڑے ہونے اور یہ امید کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ زندہ رہیں گے اور اپنے بچوں کو ذبح ہوتے نہیں دیکھیں گے۔انسانی حقوق کی اطالوی وکیل نے کہا، “یہ طاقت کی علامت نہیں؛ یہ احساسِ جرم کی علامت ہے۔البانیز کو عہدے سے ہٹانے پر مجبور کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے جنیوا میں قائم اعلیٰ ادارے انسانی حقوق کونسل پر امریکی دباؤ کی مہم ناکام ہو گئی تھی جس کے بعد محکمہ خارجہ نے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔انہیں فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا کام سونپا گیا ہے اور انہوں نے اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے بارے میں آواز اٹھائی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔امریکہ نے بدھ کو ان پابندیوں کا اعلان اس وقت کیا جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ جنگ بندی معاہدہ طے کرنے کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر حکام سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کے دورے پر تھے۔

