تاثیر 11 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 11 جولائی : کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کے تارکین وطن مزدوروں کو دہلی سے مبینہ طور پر بنگلہ دیش بھیجے جانے کے سنگین الزامات پر مرکزی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریاست کے چیف سکریٹری منوج پنت کو دہلی کے چیف سکریٹری سے رابطہ کرکے پوری صورتحال پر رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اگلی سماعت آئندہ بدھ کو ہوگی۔یہ معاملہ ہائی کورٹ میں اس وقت سامنے آیا جب درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ بنگال کے کئی کارکنوں کو بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں دہلی میں حراست میں لیا گیا اور پھر مبینہ طور پر ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ ان کارکنوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ بھی تھا، جسے اس کے والدین کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر عدالت نے مرکزی وزارت داخلہ سے فوری رپورٹ داخل کرنے کو کہا۔
اس کیس کی سماعت جمعہ کو جسٹس تپوبرتا چکرورتی اور جسٹس ریتابرت کمار مترا کی ڈویڑن بنچ نے کی۔ عدالت نے اس کیس کا موازنہ اڈیشہ میں کارکنوں کی حراست سے متعلق پہلے کیس سے کیا اور پوچھا کہ کیا دونوں میں کوئی بنیادی فرق ہے؟ اڈیشہ کیس میں کسی کو بھی ملک سے باہر نہیں بھیجا گیا، جب کہ دہلی کیس میں ایک خاندان کو بنگلہ دیش بھیجے جانے کا الزام ہے۔
اس معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ دھیرج ترویدی عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار خاندان کی طرف سے ایڈوکیٹ رگھوناتھ چکرورتی اور ریاستی حکومت کی طرف سے وشوا ورت باسوملک موجود تھے۔
یہ معاملہ بیر بھوم کے پائیکر علاقے کے چھ کارکنوں سے متعلق ہے، جنہیں 18 جون کو دہلی کے روہنی ضلع کے کے این کاٹجو تھانہ علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ حراست میں لیے جانے کے فوراً بعد کارکنوں نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انہیں بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جب اہل خانہ دہلی پہنچے تو پولیس اسٹیشن نے اطلاع دی کہ کارکنوں کو بی ایس ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے اور انہیں ’’پش بیک‘‘ کے تحت بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔
خاندان کا الزام ہے کہ پولیس اس بارے میں معلومات دینے کو تیار نہیں ہے کہ انہیں بنگلہ دیش کیسے اور کس راستے سے بھیجا گیا۔ اہل خانہ نے ریاست کے محکمہ محنت سے رابطہ کیا اور یہ مسئلہ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور لیبر ویلفیئر بورڈ کے چیئرمین سمیر الاسلام کے نوٹس میں بھی لایا۔ اس پورے معاملے پر سمیر الاسلام نے کہا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کے ذریعے انصاف کی جنگ لڑیں گے، جب مرکزی اور ریاستی حکومتیں خاموش رہیں گی تو پھر ہمیں مزدوروں کی لڑائی سڑکوں سے عدالت تک لڑنی ہوگی۔

