!بہار انتخابات: آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

تاثیر 05 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے دن جیسے جیسے قریب آرہے ہیں ، ریاست کی چناوی بساط پر چال چلنے کی رفتار بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ عظیم اتحاد کی حلیف جماعتوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کے مذاکرات اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی حکمت عملی الگ نظر آرہی ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جھامومو) کے ساتھ مذاکرات اور بی جے پی کے سابق رہنماؤں کی آر جے ڈی میں شمولیت کے حالیہ واقعات سیاسی صف بندی کو نئی شکل دے رہے ہیں۔حالانکہ بہار کی انتخابی سیاست کے تازہ رجحانات،  ریاست کے سیاسی اتحادوں، سماجی توازن اور انتخابی امکانات کی  ابھی بہت سی پرتیں کھلنا باقی ہیں۔
عظیم اتحاد کے اندر سیٹوں کی تقسیم ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ آر جے ڈی نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی شمولیت کی خواہش کو مسترد کر دیا ہے، لیکن جھامومو کے ساتھ اس کی بات چیت جاری ہے۔ جھامومو، جو جھارکھنڈ میں آر جے ڈی کی اتحادی ہے، بہار کی سرحدی علاقوں میں ایک درجن سیٹوں کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ آر جے ڈی اسے دو سے تین سیٹوں تک محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جھامومو کا بہار میں انتخابی ریکارڈ محدود ہے، جہاں اسے صرف چکائی میں ایک بار کامیابی ملی تھی۔ گزشتہ انتخابات میں جھامومو نے آر جے ڈی کے خلاف سات سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے، جس سے کٹوریہ اور چکائی میں آر جے ڈی کو نقصان پہنچا تھا۔ اس بار آر جے ڈی کی حکمت عملی پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اتحادیوں کے ساتھ محتاط معاہدوں پر مبنی ہے۔  تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ، جھامومو کو تین سے چار سرحدی سیٹوں پر موقع دیا جا سکتا ہے، جو جھارکھنڈ کے سیاسی تعاون کے بدلے ایک متوازن فیصلہ ہوگا۔ یہ مذاکرات نہ صرف سیٹوں کی تقسیم بلکہ ووٹ بینک کے تحفظ اور اتحاد کی مضبوطی کے لئے بھی اہم ہیں۔
اِدھردوسری جانب، آر جے ڈی کی سماجی شمولیت کی کوششوں نے نئی رفتار پکڑی ہے۔ بی جے پی انتہائی پسماندہ مورچہ کے صوبائی ترجمان سریش پرساد چورسیا نے آر جے ڈی کا دامن تھام لیا ہے۔ان کی آر جے ڈی میں شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آر جے ڈی پسماندہ طبقات کو اپنی طرف راغب کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ آر جے ڈی کےریاستی نائب صدر ڈاکٹر تنویر حسن نے اس موقع پر کہا کہ تیجسوی یادو کی قیادت میں عظیم اتحاد کی 17 ماہ کی حکومت نے روزگار، تعلیم، صحت، اور آئی ٹی سیکٹر میں بہار کے لئے ایک ترقیاتی روڈ میپ تیار کیا ، جس کی عوامی پذیرائی نمایاں ہے۔ تیجسوی کی قیادت نے نفرت کی سیاست کے مقابلے میں ترقی اور روزگار کو ایجنڈا بنایا، جو پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے لئے ایک پرکشش بیانیہ ہے۔ یہ شمولیتیں آر جے ڈی کی سماجی بنیاد کو وسیع کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، جو ذات پات کی بنیاد پر منقسم بہار کی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سیاسی اتحادوں کے ساتھ ساتھ، بہار کی انتخابی سیاست سماجی اور معاشی ایشوز سے بھی متاثر ہو رہی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں عظیم اتحاد صرف 15 سیٹوں پر بہت کم ووٹوں کے فرق سے اقتدار سے محروم ہو گیا تھا۔ اس بار آر جے ڈی کی حکمت عملی ووٹر لسٹ کی درستگی، انتخابی اتحادوں کی مضبوطی، اور عوامی ایشوز جیسے روزگار اور ترقی کو اجاگر کرنے پر مرکوز ہے۔ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے، جو نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ساتھ مضبوط اتحاد رکھتی ہے، ترقی کے مقابلے ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ تاہم، آر جے ڈی کی سماجی اتحاد کی حکمت عملی، خاص طور پر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو شامل کرنے کی کوشش، انتخابی میدان میں این ڈی اے کے سامنے ایک مضبوط چیلنج کے طور پر کھڑی ہے۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ایس آئی آر پروگرام کے تحت ووٹر لسٹ کی اصلاحات کو جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ یہ اجازت آر جے ڈی کے لئے ایک چنوتی بن سکتی ہے۔ ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج نے سیمانچل جیسے علاقوں میں تنازع کو جنم دیا ہے، جہاں آر جے ڈی کا ووٹ بینک مضبوط ہے۔ اس تنازع سے بچنے کے لئے آر جے ڈی کو شفافیت اور ووٹرز کے اعتماد کو برقرار رکھنے پر توجہ دینی ہوگی۔
بہار کے انتخابات 2025 ، سیاسی اقتدار کی جنگ کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی اور ترقیاتی ایجنڈے کی کسوٹی بھی ہیں۔ آر جے ڈی کی حکمت عملی اتحادوں کی مضبوطی، سماجی شمولیت، اور ترقیاتی وعدوں پر مبنی ہے، جبکہ این ڈی اے اپنی گورننس اور قومی ایجنڈے پر زور دے رہا ہے۔ دونوں اتحادوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، اور جھامومو جیسے اتحادیوں کے ساتھ معاہدے اس مقابلے کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔ آئندہ چند ماہ بہار کی سیاسی سمت کو واضح کریں گے، جہاں ووٹروں کا اعتماد اور اتحادوں کی مضبوطی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ابھی ریاست کی انتخابی سیاست ’’آگے آگے دیکھئے، ہوتا ہے کیا‘‘ کے مرحلوں سے گزر رہی ہے۔