بہار انتخابات اورجمہوری اقدار کا تقاضہ

تاثیر 11 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار، جہاں سیاسی ہلچل کبھی تھمتی نہیں، آج کل اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی شدید نظرثانی (ایس آئی آر) کے تنازعے کی زد میں ہے۔ یہ معاملہ الیکشن کمیشن، اپوزیشن کے انڈیا اتحاد اور حکمران این ڈی اے کے درمیان شدید تناؤ کا باعث بنا ہواہے۔ اپوزیشن اسے’’ووٹ چوری‘‘ کا نام دے کر سڑکوں پر نکل آئی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اسے معمول کی کارروائی قرار دے رہا ہے۔ یہ تنازعہ نہ صرف بہار کی سیاست کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اس کی وجہ سے ملک کے جمہوری اداروں کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف واضح کیاہے کہ قانون اسے ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج شدہ ووٹروں کی الگ فہرست بنانے یا اس کے اسباب شائع کرنے کا پابند نہیں کرتا ہے۔ یہ بیان ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی اس درخواست کے جواب میں آیا ہے، جس نےبہار کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے 65 لاکھ ناموں کی تفصیلات مانگی تھیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ فہرستیں سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہیں، اور اے ڈی آر ان سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ڈرافٹ لسٹ سے نام ہٹانا حتمی طور پر ووٹر لسٹ سے خارج کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ صرف گنتی کے مرحلے کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ڈرافٹ لسٹ میں نام شامل کرنے کے لئے کوئی جانچ نہیں کی جاتی، اور ہر وہ فارم جو موصول ہوتا ہے، اسے بلا امتیاز شامل کیا جاتا ہے۔ یہ موقف قانون کے مطابق تو درست لگتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے یہ کافی ہے؟ کیا لاکھوں ناموں کی خارج کاری کے اسباب کو عوام کے سامنے رکھنا جمہوریت کی شفافیت کا تقاضا نہیں ہے؟
دوسری طرف، اپوزیشن کا انڈیا اتحاد اس معاملے کو جمہوریت پر حملہ قرار دے رہا ہے۔ سوموار کو اس نے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے ہیڈ کوارٹر تک مارچ نکالا تھا تاکہ اس امر کا میمورنڈم پیش کیا جائے۔ مگر دہلی پولیس نے اسے روک دیا، اور راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، ملیکارجن کھڑگے، اکھلیش یادو، سنجے راوت سمیت 30 سے زائد اراکین کو دو گھنٹے کی حراست کے بعد رہا کیا گیا۔ پرینکا نے مودی حکومت کو ’’بزدل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ووٹ چوری بند کرے۔ کھڑگے نے پوچھا ہےکہ اگر سب کچھ شفاف ہے تو کمیشن تمام اراکین سے ملاقات کیوں نہیں کرنا چاہتا ؟  راہل گاندھی نے اسے آئین اور ’’ایک شخص ایک ووٹ‘‘ کی لڑائی قرار دیا ہے اور کہا ہےکہ خالص ووٹر لسٹ ہر شہری کا حق ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ 65 لاکھ ناموں کی خارج کاری، خاص طور پر غریبوں، اقلیتوں اور مخالف ووٹروں کو نشانہ بنا رہی ہے، جو انتخابات کی غیر جانبداری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اپوزیشن لیڈرمطالبہ کر رہے ہیں کہ کمیشن ناموں کی خارج کاری کی وجوہات واضح کرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کواصلیت جاننے کا موقع دے۔
دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی اور این ڈی اے اسے سیاسی ہتھکنڈا قرار دیتے ہیں۔ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان  کا کہنا ہےکہ ایس آئی آر ایک ثابت شدہ عمل ہے ،جو ہر ریاست میں ووٹر لسٹ کو منظم کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر ووٹ بینک کی سیاست کا الزام لگایا ہے اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے راہل گاندھی کے مبینہ ’’جھوٹ‘‘ کو فیکٹ چیک کے ذیعہ بے نقاب کر دیا ہے۔
ظاہر ہے،یہ تنازعہ بہار کے انتخابات کےلئے ایک اہم موڑ ہے۔ اپوزیشن کے خدشات جائز ہیں کہ ووٹر لسٹ کی شفافیت جمہوریت کی روح ہے، اور لاکھوں ناموں کی بغیر وجہ خارج کاری ووٹروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ لیکن انہیں محض الزامات کی بجائے ٹھوس ثبوت پیش کرنے چا ہئیں۔ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو بھی کھلے پن کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بی جے پی کو قومی سلامتی کے نام پر جذباتی سیاست سے گریز کرنا چاہئے اور اصل مسائل جیسے ترقی،  روزگار اور سماجی انصاف پر توجہ دینی چاہئے۔بہار کے ووٹروں کا حق ہے کہ انہیں شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل ملے۔ایسے میں کمیشن، حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تنازعے کاکوئی باوقار حل سامنے آسکے، ساتھ ہی ہر ایک ووٹر کا حق بھی محفوظ رہ سکے۔ اوریہی ملک کے جمہوری اقدار کا تقاضہ بھی ہے۔
************