تاثیر 31 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
کلکتہ، 31/ اگست (محمد نعیم) پچھلے جمعہ کی صبح کلکتہ کے ’بدھان بھون‘ یعنی ریاستی کانگریس کے صدر دفتر پر ہوئے ہنگامے نے مغربی بنگال کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس واقعے کے مرکزی ملزم راکیش سنگھ جو جنوبی کولکتہ کے بندرگاہ علاقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرگرم رکن ہیں۔ کانگریس کے جھنڈے جلائے گئے، راہل گاندھی کی تصویر پر کالک لگائی گئی اور دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
اس واقعے کے بعد ریاستی بی جے پی قیادت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ راکیش اور ان کے ساتھیوں کے اقدام کو پارٹی نے اپنی منظوری سے الگ قرار دیا ہے، لیکن ان کے خلاف کسی سخت کارروائی سے اب تک گریز کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر پارٹی اپنے ہی کارکن کے خلاف قدم اٹھانے سے کیوں ہچکچا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے ایک حلقے کا ماننا ہے کہ راکیش کو فوری طور پر معطل کر دینا چاہیے تاکہ صاف پیغام جائے کہ بی جے پی ایسی حرکتوں کو برداشت نہیں کرتی۔ لیکن ایک دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ اس وقت کارروائی کرنے سے غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بہار اسمبلی انتخابات کی مہم عروج پر ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ کانگریس اس معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ راکیش سنگھ کا نام اس سے پہلے بھی مختلف تنازعات میں آ چکا ہے۔ 2021 میں نشہ آور اشیاء کے ایک معاملے میں ان کی گرفتاری ہوئی تھی اور نو ماہ بعد ضمانت ملی تھی۔ کئی دیگر مقدمات میں بھی وہ ملزم ہیں۔
ادھر ریاستی کانگریس صدر شبھنکر سرکار نے بی جے پی صدر شمیک بھٹا چاریہ کو کھلا خط لکھ کر راکیش اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس میں بھی شکایت درج ہو چکی ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔
ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے واضح کیا ہے کہ راکیش کا اقدام پارٹی کی منظور شدہ پالیسی نہیں تھی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم پر نازیبا تبصروں سے بی جے پی کارکنوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔
سوال یہ ہے کہ بی جے پی قیادت کب تک خاموشی اختیار کرے گی اور کیا واقعی راکیش سنگھ کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی یا ایک بار پھر معاملہ سیاسی مصلحت کی نذر ہو جائے گا؟

