تاثیر 14 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
آج 15 اگست، 2025 ہے۔آج ہمارا پیارا ملک بھارت اپنی آزادی کا 79واں جشن منا رہا ہے۔ یہ دن نہ صرف ہماری تاریخ کا ایک سنہرا باب یاد دلاتا ہے، بلکہ ہمیں اس بات پر غور کرنے کی بھی دعوت دیتا ہے کہ ہم نے آزادی کے بعد سے اب تک کیا کھویا اور کیا پایا۔ دہلی کے تاریخی لال قلعے کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی قوم کو خطاب کریں گے، جہاں وہ 2014 سے اب تک کی حکومت کی کارکردگی اور بھارت کا بڑھتے کا جائزہ پیش کریں گے۔ اس سال کا تھیم ’’نیا بھارت‘‘ ہے، جو ایک خوشحال، محفوظ اور خود کفیل بھارت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ قومی جشن ہر سال کی طرح اس سال بھی ترانے کی گونج اور ترنگے کی لہراتی ہوئی شان کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ایسے میں یہ سوال بھی ہمارے ذہنوں میں گونجنا چاہئےکہ کیا ہم واقعی ان خوابوں کے قریب پہنچ پائے ہیں ،جو ہمارے، آزادی کے متوالوں نے دیکھے تھے؟ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو ، مولانا ابو الکلام آزاد اور دیگر مجاہدین آزادی نے ایک ایسے بھارت کا خواب دیکھا تھا، جہاں مساوات، انصاف اور ترقی سب کے لئے دستیاب ہو۔ آج، جب ہم 79 سالہ سفر کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم نے واقعی بہت کچھ حاصل کیا ہے، لیکن چیلنجز بھی کچھ کم نہیں۔
آزادی کے یہ 79 سال بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت بنانے میں اہم ثابت ہوئے ہیں۔ اقتصادی میدان میں، 2024 میں آئی ٹی اخراجات میں 10.7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور بائیو اکانومی کی مالیت 137 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہماری کامیابیاں نمایاں ہیں؛ چندریان-3 مشن کے ذریعے بھارت چاند کے جنوبی قطب پر پہنچنے والا پہلا ملک بناہے، جبکہ منگل یان اور دیگر خلائی مشنز نے ہماری صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا ہے۔ دفاع میں اگنی اور اکاش میزائلوں کی تیاری، نیوکلیئر انرجی اور بائیو ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے بھارت کو خود کفیل بنایا ہے۔ 2024 میں گلوبل انوویشن انڈیکس میں بھارت 39ویں پوزیشن پر پہنچا ہے، جو ہماری تحقیق اور اختراع کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ زراعت میں نئی ٹیکنالوجیز نے پیداوار بڑھائی ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ خلائی، دفاع اور کلین انرجی میں شراکت داری نے ہماری عالمی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، بھارت ایک مضبوط آواز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی نے متوازن رویہ اپناتے ہوئے بڑے طاقتور ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کیے اور ترقی پذیر دنیا کے لئے امید کی کرن بنی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز سے لے کر ماحولیاتی تحفظ کی وکالت تک، بھارت نے ذمہ دار اور پرامن عالمی شراکت دار کا کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب، داخلی محاذ پر ہماری تصویر اتنی پر کشش نہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کے بڑھتے رجحانات نے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اتراکھنڈ اور اترپردیش جیسی ریاستوں میں امن اور ہم آہنگی کو شدیدچیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ مذہبی بنیاد پرستی سیکولر ازم کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنی گنگا جمنی تہذیب پر فخر کرتا رہا ہے، وہاں نفرت کی سیاست نے کئی بار بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف جمہوری اقدار کے لئے خطرہ ہے بلکہ اقتصادی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتا ہے، کیونکہ ترقی ہمیشہ امن اور استحکام کی زمین پر پنپتی ہے۔بے روزگاری کی شرح لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ ابھی ملک میں کم از کم 10 سے 12 ملین نئی نوکریوں کی ضرورت ہے۔ زرعی بحران، دیہی عدم مساوات، انفراسٹرکچر کی کمی، تعلیم کے مسائل، غربت، آلودگی اور کرپشن جیسے سماجی چیلنجزمنہ پھاڑے کھڑے ہیں۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی توانائیاں داخلی خلفشار میں ضائع کرنے کے بجائے تعلیمی اصلاحات، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مرکوز کریں۔ عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کے لئے ہمیں تحقیق و اختراع، صاف توانائی، ڈیجیٹل معیشت اور صحت عامہ میں غیر معمولی پیش رفت کرنی ہوگی۔ بھارت کے نوجوانوں کی آبادی ایک قیمتی اثاثہ ہے، بشرطیکہ انہیں معیاری تعلیم، مہارت اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسی طرح خارجہ پالیسی میں ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعتماد سازی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ مغربی ایشیا سے لے کر افریقہ تک اور جنوب مشرقی ایشیا سے یورپ تک، بھارت کو اپنی سفارتی اور تجارتی موجودگی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ ساتھ ہی، عالمی چیلنجز جیسے موسمیاتی تبدیلی، خوراک اور پانی کی قلت، اور سائبر سیکورٹی میں فعال کردار ادا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
آزادی کا یہ 79واں جشن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایسا بھارت دے پائیں گے، جو خوشحال، متحد اور دنیا کی قیادت کرنے والا ہو؟ ترنگا صرف فخر کی علامت نہیں، بلکہ یہ عہد کا پرچم ہے کہ ہم اپنی آزادی کو بہتر مستقبل کی بنیاد بنائیں گے۔ اس کے لئے مذہبی ہم آہنگی، شفاف حکمرانی اور سب کے لیے یکساں مواقع ہی ہماری اصل طاقت ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم جشن آزادی کو صرف یادگار تقریبات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے ایک نئے عزم، نئے خواب اور ایک مشترکہ قومی وژن کے ساتھ منائیں، تاکہ آئندہ برس جب ہم 80واں جشن منائیں تو دنیا ہمیں صرف ایک آزاد ملک ہی نہیں، بلکہ ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور متحد قوم کے طور پر بھی جانے۔’’نیا بھارت ‘‘کا خواب صرف دو الفاظ کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ اس کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ان تقاضوں کو عملی جامہ پہنانے کا عزم و عمل ہی ہمارے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکے گا۔
*************

