تاثیر 25 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ہوڑہ، 5/ اگست (شبیر احمد) سنٹرل ہوڑہ میں راشن دکانوں کے سامنے سی پی ایم حامیوں نے راشننگ سسٹم کی تباہی پر مرکزی حکومت کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا اور فوڈ سیکیورٹی ایکٹ کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا ہے ۔
ہوڑہ کے ٹکیہ پاڑہ،رام کرشنا پور،شیب پور،قدم تلہ،باجی شیب پور،پی ایم بستی،کالی بابو بازار اور دیگر علاقوں میں راشن دکان کے سامنے سی پی ایم حامیوں نے مظاہرہ کیا ۔ان کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت ہندوستان کے 82 کروڑ لوگوں کو جو حکومت کے راشن پر گزارہ کرتے ہیں اب ان کا حق بھی غصب کررہی ہے ۔ مرکز آسانی کے نام پر سرمایہ داروں کے ہاتھوں کسانوں کی زرعی زمین گروی کروا رہی ہے اور عام لوگوں کے پلیٹ کی روٹی بھی چھین رہی ہے ۔ مرکز نے پالیسی بنایا ہے کہ اب راشن کے بدلے کارڈ ہولڈروں کو ڈائریکٹ بنک کھاتے میں روپیہ جائے گا ۔سی پی ایم ہوڑہ ایریا کمیٹی سکریٹری ایڈوکیٹ امتیاز احمد نے کہا کہ اس پالیسی کے خلاف پورے بنگال میں 24 اگست کو احتجاج ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ
ملک کے ہر شہری کے کھانے کے حق کا آئین کے ذریعے تحفظ کیا جانا چاہیے۔ 2013 میں، دوسری یو پی اے حکومت کے دوران، مرکزی حکومت نے فوڈ سیکورٹی ایکٹ نافذ کیا۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ 2014 میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، عوامی تقسیم کے نظام کو آسان بنانے کے نام پر اسے مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ اب راشن کے بدلے روپیہ کے نام پر غریبوں کا حق لوٹنے کی سازش چل رہی ہے ۔ترنمول بھی اس معاملے پر خاموش ہے ۔جب کہ اڈیشہ میں اس پالیسی کی خرابی عیاں ہو چکی ہے ۔ مرکز کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سی پی ایم کا احتجاج جاری رہے گا۔
اطلاع کے مطابق اڈیشہ کے ایک شہر میں راشن کی رقم 6700 جعلی اکاؤنٹس میں داخل ہوئی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، ڈیجیٹل راشن کارڈ سسٹم کی وجہ سے سب سے مشکل صورتحال کا سامنا تارکین وطن مزدوروں کو کرنا پڑ رہا ہے، جو دوسری ریاستوں میں کام کرنے جاتے ہیں، لیکن وہاں راشن نہیں ملتا۔ مرکزی حکومت نے سماج کے سب سے پسماندہ طبقے کے اس مسئلہ پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ سی پی ایم لیڈر ایڈوکیٹ امتیاز احمد نے کہا کہ اس سے کسانوں کی خودکشی میں اصافہ ہو جائے گا اور غریب لوگوں کے پلیٹ سے روٹی غائب ہو جائے گی اس لئے ہر شہری کی زمہ داری ہے کہ اس عوام دشمن پالیسی کے خلاف احتجاج کرے ۔

