تاثیر 31 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
مظفر پور (نزہت جہاں)
جیسے جیسے بہار الیکشن کا وقت قریب ارہا ھے عوام اپنے ممبر اسمبلی سے کافی ناراض دیکھ رھے ھیں ،ان دنوں نیتش کمار کے وزیر ،ممبر اسمبلی کے ساتھ اپوزیشن کے ممبر اسمبلی بھی عوام کے ناراضگی کا سامنا کر رہے ہیں ، معلوم ہو کہ مظفر پور کے گائے گھاٹ اسمبلی حلقہ کے آر جے ڈی ممبر اسمبلی کے خلاف ان کے ہی اسمبلی حلقہ میں احتجاج کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کبھی ممبر اسمبلی دھرنے پر بیٹھے لوگوں سے ملنے پہنچتے ہی ان کے خلاف احتجاج شروع ہو جاتا ہے تو کبھی اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے سامنے ممبر اسمبلی کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ اب تو تمام حدیں پار ہو گئی ہیں، اس بار خواتین نے ممبر اسمبلی کے خلاف اس حد تک احتجاج کیا ہے کہ ہم سن بھی نہیں سکتے۔
دراصل، گائے گھاٹ اسمبلی حلقہ کے موجودہ ممبر اسمبلی نرنجن رائے ان دنوں اپنے ہی اسمبلی حلقہ میں سرخیوں میں ہیں۔ عوام کے غصے کی وجہ سے ممبر اسمبلی کو اپنے ہی اسمبلی حلقہ کے لوگوں کی مخالفت کا مسلسل سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر حالیہ دنوں کی بات کریں تو ووٹر رائٹس یاترا کے دوران جب راہل گاندھی اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کا قافلہ ممبر اسمبلی کے اسمبلی حلقہ میں پہنچا تو وہاں کے مقامی لوگوں نے ممبر اسمبلی کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے جس کی وجہ سے راہل گاندھی نے مقامی ممبر اسمبلی کے شال اور گلدستے قبول نہیں کیا اور ان سے ملاقات تک نہیں کی۔ آر جے ڈی ایم ایل اے نرنجن رائے کی حالت زار ھے کہ
ایک بار پھر گائے گھاٹ کے آر جے ڈی نرنجن رائے اپنے حلقہ کے دھوبولی گاؤں پہنچے تھے۔ جہاں مقامی لوگ گاؤں سے چندہ اکٹھا کر کے پرانے باگمتی ندی کے کنارے پر پل تعمیر کر رہے تھے۔ آر جے ڈی ممبر اسمبلی نرنجن رائے اسی پل کے لیے چندہ دینے آئے تھے، جب مقامی لوگ ناراض ہوگئے اور نیتا جی کو گاؤں چھوڑنے کا حکم دیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ جس پل کا عوام 30 سال سے مطالبہ کر رہے ہیں وہ آج تک کسی لیڈر نے نہیں بنایا۔ جب بھی الیکشن قریب آتا ہے، ممبر اسمبلی اور نیتا جی ووٹ مانگنے آتے ہیں۔ الیکشن ختم ہونے کے بعد نیتا جی کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی لوگوں نے کہا ہے کہ اس الیکشن میں گاؤں میں کسی بھی پارٹی کے لیڈر کا داخلہ ممنوع ہوگا۔

