تاثیر 05 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
غزہ،05اگست:فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق غزہ میں غذائی قلت اور خوراک کی شدید کمی کے باعث 5 افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ علاقے میں انسانی بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔صحت سے متعلق دستیاب اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی یہ تمام اموات بالغ افراد میں ہوئیں۔ اس طرح 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی جنگ کے آغاز سے اب تک بھوک اور غذائی قلت سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 180 ہو گئی ہے، جن میں 93 بچے شامل ہیں۔ یہ بات فلسطینی تخمینوں میں بتائی گئی۔تقریباً 24 لاکھ کی آبادی والی غزہ کی پٹی میں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کا سنگین بحران جاری ہے، جب کہ مارچ کے اوائل سے سرحدی گزرگاہوں کی تقریباً مکمل بندش کے بعد انسانی امداد کی فراہمی پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں مارچ سے جون کے درمیان 5 سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت کے کیسز دو گنا ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ رسد میں شدید کمی ہے۔

