تاثیر 25 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
غزہ کی پٹی، جہاں لاکھوں فلسطینی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اِن دنوںایک ایسی تباہی سے دوچار ہے جو محض قدرتی نہیں بلکہ مکمل طور پر انسانوں کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے غزہ شہر میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جہاں پانچ لاکھ سے زائد افراد بھوک، غذائی قلت اور موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال کوئی اتفاقیہ نہیں، بلکہ اسرائیل کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ،جو امدادی سامان کی ترسیل میں منظم رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔ایسے میں سوال ہے کہ جب سرحد کے پار امدادی ٹرک موجود ہیں، تو پھر غزہ کے بچوں کی ہڈیاں کیوں نکل آئی ہیں؟
آئی پی سی کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ غزہ میں قحط کے تین اہم اشارے پورے ہو چکے ہیں: فاقہ کشی، شدید غذائی قلت، اور بھوک سے اموات۔ ہر پانچ میں سے ایک گھرانہ خوراک کی شدید کمی کا شکار ہے، تین میں سے ایک بچہ غذائی قلت سے متاثر ہے، اور روزانہ ہزاروں میں سے دو افراد بھوک اور بیماری سے مر رہے ہیں۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق، غذائی قلت سے 273 اموات ہو چکی ہیں، جن میں 112 بچے شامل ہیں۔ یہ اعدادوشمار محض نمبر نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کی داستان ہیں، جو بھوک کی وجہ سے دم توڑ رہی ہیں۔
اسرائیل کی ناکہ بندی اور امدادی سامان پر پابندیاں اس بحران کی جڑ ہیں۔ سات اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے بعد سے، اسرائیل نے غزہ میں داخل ہونے والے سامان پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، اور مارچ 2025 سے تین ماہ تک مکمل ناکہ بندی نے حالات کو بد سے بدتر کر دیا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی دباؤ کے بعد مئی میں محدود امداد کی اجازت دی گئی تھی، لیکن نئے امریکی گروپ جی ایھ ایف کے زیر انتظام خوراک کی تقسیم کا نظام ناکارہ ثابت ہوا ۔ محض چار فوڈ پوائنٹس، جہاں فلسطینیوں کو جان خطرے میں ڈال کر امداد لینے جانا پڑتا ہے، اقوام متحدہ کے چار سو پوائنٹس کے مقابلے میں ناکافی ہیں، جس کا نتیجہ ہے کہ فائرنگ اور بھگدڑ میں 1760 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 994 اموات جی ایچ ایف کے پوائنٹس کے قریب ہوئیں۔
اسرائیل کے اس دعوے کو کہ حماس امداد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، متعدد دیگر رپورٹس کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت کی رپورٹ نے مسترد کر دیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امداد کی لوٹ مار زیادہ تر مایوس فلسطینیوں کی طرف سے ہو رہی ہے، جو بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کو روزانہ 600 ٹرک امداد کی ضرورت ہے، لیکن فی الحال نصف سے کچھ زیادہ ہی داخل ہو رہے ہیں۔ فضائی امداد بھی غیر موثر ثابت ہوئی ہے۔
اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائی، جس میں غزہ شہر پر قبضے کے لیے ہزاروں ریزرو فوجیوں کو طلب کیا گیا ہے، حالات کو مزید خراب کر رہی ہے۔ اس حملے سے دس لاکھ فلسطینی بے گھر ہو جائیں گے، جبکہ قحط کے حالات پہلے ہی بدترین ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے’’اخلاقی گراوٹ‘‘ اور’’انسانیت کی ناکامی‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔
غزہ کے عوام نہ صرف بھوک بلکہ موت کے خوف میں جیتے ہیں۔ انہیں خوراک یا موت میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، اور بلا روک ٹوک امداد کی ضرورت ہے۔ غزہ کے لوگ محض اعدادوشمار نہیں، وہ انسان ہیں۔ انھیں بھی باوقار زندگی جینے کا حق ہے۔ایسے میں سوال ہے کہ کیا عالمی ضمیر اب بھی جاگے گا، یا غزہ کو انسانیت کے خلاف منظم سازش اور غیر انسانی سلوک کا مسلسل شکار ہونے دیا جائے گا؟
*************************

