تاثیر 17 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن ،17اگست:امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ غزہ پٹی سے آنے والے افراد کے تمام وزٹ ویزوں کو وقتی طور پر روک رہی ہے، تاکہ ایک’جامع اور محتاط جائزہ‘ کیا جا سکے۔وزارت خارجہ نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں صرف ’چند‘ عارضی ویزے طبی اور انسانی مقاصد کے لیے جاری کیے گئے ہیں، لیکن کسی مخصوص تعداد کا ذکر نہیں کیا گیا۔سرکاری ویب سائٹ پر ماہانہ ویزوں کی تعداد کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال کے آغاز سے امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی کے پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے B1 اور B2 ویزوں کی 3800 سے زائد اجازت نامے دیے ہیں، جن میں سے 640 ویزے مئی میں جاری کیے گئے۔یہ ویزے غیر ملکیوں کو امریکہ میں علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
یہ اقدام امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب دائیں بازو کی متحرک شخصیت لورا لومر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ ویڈیو میں فلسطینی دکھائے گئے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غزہ کے مہاجر ہیں اور سان فرانسسکو اور ہیوسٹن کے ذریعے امریکہ پہنچ رہے ہیں۔لومر کے اس بیان نے کچھ ریپبلکن سیاستدانوں کو برہم کر دیا۔ ٹیکساس کے رکن کانگریس چیپ رائی نے اس معاملے کی تحقیقات کا عندیہ دیا جبکہ فلوریڈا کے رکن کانگریس رینڈی فائن نے اسے “قومی سکیورٹی کے لیے خطرہ” قرار دیا۔

