بھارت: ہم آہنگی اور امیدوں کی راہ پر

تاثیر 02 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت، جو اپنی تنوع،ساجھی سنسکرتی، ساجھی وراثت اور سیکولر آئین کے لئے پوری دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے، آج ایک متحرک سیاسی اور سماجی منظرنامے سے گزر رہا ہے۔ یہ ملک ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے، جو ترقی، امید، اور چیلنجز کا ایک دلچسپ امتزاج ہے۔ ایک عظیم الشان جمہوریت کے طور پر، بھارت عالمی سطح پر اپنی شناخت منوا رہا ہے، لیکن اس کے اندرونی ڈھانچے اور سماجی تانے بانے کو ہم آہنگی اور ترقی کے نئے امکانات کے ساتھ ساتھ کچھ پیچیدہ مسائل کا بھی سامنا ہے۔ یہ ایک ایسا موڑ ہے، جہاں پالیسیاں، نظریات، اور عوامی توقعات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر ایک نئے بھارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
سیاسی میدان میں، بھارت ایک فعال اور متنوع منظر پیش کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے قومی ترقی اور ثقافتی شناخت پر مبنی اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے۔ اس ایجنڈے نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن، اور عالمی سفارت کاری میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔’’میک ان انڈیا‘‘ اور’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ جیسی پالیسیوں نے نئی نسل کو روزگار اور اختراع کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ تاہم، سیاسی پولرائزیشن اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ کے حوالے سے کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں، جیسے کانگریس اور علاقائی پارٹیاں، اپنے اتحادی ڈھانچوں اور متبادل پالیسیوں کے ذریعے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ سیاسی تنوع بھارت کی جمہوریت کی طاقت ہے، جو مختلف نظریات کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے۔
سماجی طور پر، بھارت روایت اور جدت کے درمیان ایک دلچسپ توازن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شہری مراکز جیسے ممبئی، بنگلور، اور دہلی میں عالمگیریت اور ٹیکنالوجی کی لہر نے نئی نسل کو بااختیار بنایا ہے۔ خواتین کی تعلیم و ترقی، سوشل میڈیا کے ذریعے بیداری، اور صنفی مساوات کی تحریکیں سماجی تبدیلی کی علامت ہیں۔ دیہی علاقوں میں، جہاں ذات پات، معاشی تفاوت، اور روایتی اقدار اب بھی اثر انداز ہیں، حکومتی اسکیمیں جیسے’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ اور’’پرادھان منتری آواس یوجنا‘‘ سماجی ترقی کو فروغ دے رہی ہیں۔ تاہم، خواتین کے خلاف تشدد اور پسماندہ طبقات کے مسائل جیسے چیلنجز پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ سماجی اداروں اور سول سوسائٹی کی سرگرمیاں ان مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو ایک جامع معاشرے کی طرف پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اقتصادی طور پر، بھارت ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی شناخت کو مضبوط کر رہا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر، اسٹارٹ اپ کلچر، اور عالمی سرمایہ کاری نے بھارت کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ حکومت کے اقدامات جیسے ’’اسٹارٹ اپ انڈیا‘‘ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں نے معاشی ترقی کو فروغ دیا ہے۔ لیکن بے روزگاری، کسانوں کی بدحالی، اور مہنگائی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ کسانوں کے لئے زرعی اصلاحات اور مزدوروں کے لئے سماجی تحفظ کی اسکیمیں ان مسائل کے حل کی طرف اہم قدم ہیں۔ معاشی پالیسیوں کو مزید جامع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کا پھل ہر طبقے تک آسانی کے ساتھ پہنچ سکے۔
بھارت کی اصل طاقت اس کے عوام کی لچک، تنوع، اور امنگوں میں مضمر ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو صدیوں سے مختلف ثقافتوں، زبانوں، اور نظریات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت، سماجی ادارے، اور عوام مل کر ایک ایسی راہ بنائیں جو سب کو ساتھ لے کر چلے۔ تعلیم، صحت، اور روزگار کے مواقع سب کےلئے قابل رسائی ہوں، اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ بھارت کا مستقبل اس کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ اپنے تنوع کو اپنی طاقت بنائے اور ایک ایسی قوم کی تعمیر کرے جو ہر فرد کے خوابوں کی تکمیل کر سکے۔ یہ وقت ہے کہ بھارت اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک نئی، جامع، متنوع ،جمہوری اقدار کا حامل اور ترقی یافتہ ملک کے طور پرخود کو دنیا کے سامنے کھڑا ہونے کے لئے پوری طرح سے تیار ہو سکتا ہے۔
*****************