چراغ کی خواہش سے این ڈی اے میںپریشانی

تاثیر 27 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار کےانتخابی میدان میں ایک بار پھر طوفان اٹھنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی کشتی اتحادیوں کی آپسی رسہ کشی میں ہچکولے کھا تی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ چند ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر، بی جے پی اور جے ڈی یو کی جوڑی تو اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہے، مگرچراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) نے 40 سیٹوں کا مطالبہ  کرکے پورے اتحاد کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم کے معاملے پر اتفاق رائے بنتا دکھائی دے رہا تھا، مگراس پر سکون ماحول میں ہلچل سی پیدا ہو گئی ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو دونوں 100 سے زائد سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں۔ نتیش کمار کو’’بڑے بھائی‘‘ کا درجہ حاصل ہے، چنانچہ سیٹ کے معاملے میں بھی انھیں بر تری حاصل رہے گی، ایسا مانا جا رہا ہے۔حالانکہ اسی درمیان چراغ پاسوان کی 40 سیٹوں کی خواہش نے اتحاد کے اندر زلزلہ جیسا ماحول بنا دیا ہے۔
یہ بات آج بھی سب کو یاد ہے کہ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں چراغ پاسوان نے جے ڈی یو کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔اس وقت انہوں نے این ڈی اے سے الگ ہو کر اکیلے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جے ڈی یو کی سیٹیں کم ہوگئیں اور بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ اب، 2025 کے انتخابات قریب آتے ہی، چراغ پاسوان دوبارہ اپنے پتوں کو ہلانے لگے ہیں۔ حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ بی جے پی اور جے ڈی یو دونوں جماعتیں 100۔100 سے کچھ زیادہ سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا ارادہ پالی ہوئی ہیں تاکہ اتحاد کی بنیاد مضبوط رہے۔ مگر چراغ پاسوان کی پارٹی کو 20 سے زائد سیٹیں دینے پر جے ڈی یو تیار نہیں ہے، جبکہ بی جے پی انہیں ساتھ رکھنے کی خواہش مند ہے، کیونکہ پاسوان ووٹرز 30 سے زائد سیٹوں پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں، چراغ پاسوان کی تنقید نتیش کمار کی حکومت پر تیز ہوتی جا رہی ہے، جسے بی جے پی روکنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کوئی انہونی نہیں ہوجائے۔
این ڈی اے کی دیگر حلیف جماعتوں کا مزاج بھی دلچسپ ہے۔ بی جے پی، جو مرکزی سطح پر مضبوط ہے، بہار میں اپنے اتحادیوں کو متوازن رکھنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ وہ جے ڈی یو کو خوش رکھنا چاہتی ہے، کیونکہ نتیش کمار کی قیادت میں ذات کی بنیاد پر قائم سیاست کا توازن برقرار ہے۔ مگر چراغ پاسوان کے رویہ سے بی جے پی کو پریشانی ہے، کیونکہ اگر وہ الگ ہوئے تو پاسوان ووٹ بی جے پی کی جھولی سے نکل سکتے ہیں۔حالانکہ جے ڈی یو کا مزاج زیادہ سخت ہے۔ وہ چراغ پاسوان کو ’’چھوٹا اتحادی‘‘ سمجھتے ہوئے 20 سیٹوں سے زیادہ دینے کے خلاف ہیں۔ دیگر چھوٹی جماعتیں، جیسے ہندوستانی عوام مورچہ اور آر ایل جے ڈی، بھی سیٹوں کی تقسیم میں، بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ چاہتی ہیں۔ اس صورتحال میں، سیٹوں کی تقسیم کی مجموعی تصویردھندلی پڑتی نظر آ رہی ہے۔
اِدھر چراغ پاسوان نے این ڈی اے الگ ہو کر اکیلے تمام 243 سیٹوں پر چناؤلڑنے کا ارادہ ظاہرکرکے ایک بار پھر 2020 کی یاد تازہ کر دی ہے۔2020 میں انہوں نے ایسا کرکے جے ڈی یو کو 27 سیٹوں پر نقصان پہنچایا تھا۔ اگر چراغ پاسوان یہ راستہ اپناتے ہیں، تو این ڈی اے کے ووٹ بینک میں دراڑ پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف، اگر وہ کمپرومائز کرتے ہیں تو اتحاد برقرار رہے گا، مگر ان کے سپورٹرز میں ناراضگی پیدا ہو سکتی ہے۔ چراغ پاسوان کے حالیہ بیانات میں ڈومیسائل پالیسی کی حمایت اور نتیش کمار پر تنقید سے لگتا ہے کہ وہ اپنے والد رام ولاس پاسوان کی وراثت کو نئی جہت دے رہے ہیں، جو نوجوان ووٹرز کو اپیل کر سکتی ہے۔