نیتن یاہودماغ سے خالی ہوچکے ہیں، نیوزی لینڈکے وزیراعظم اسرائیلی وزیراعظم پر برس پڑے

تاثیر 13 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

آکلینڈ،13اگست:جیسا کہ نیوزی لینڈ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے تو ملک کے وزیرِ اعظم کرسٹوفر لکسن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسرائیل کے رہنما بینجمن نیتن یاہو “معاملہ فہمی کی صلاحیت سے عاری اور الجھن کا شکار ہو چکے ہیں۔لکسن نے صحافیوں کو بتایا، انسانی امداد کی کمی، لوگوں کی زبردستی نقلِ مکانی اور غزہ کا الحاق انتہائی خوفناک ہے اور نیتن یاہو بہت آگے جا چکے ہیں۔مرکزی دائیں بازو کی مخلوط حکومت کے سربراہ لکسن نے مزید کہا، “میرے خیال میں وہ الجھن کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم راتوں رات جو کچھ دیکھ رہے ہیں، غزہ شہر پر حملہ بالکل اور قطعاً ناقابلِ قبول ہے.
دریں اثناء برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور ان کے کئی یورپی اتحادیوں نے منگل کے روز کہا کہ غزہ میں انسانی بحران “ناقابلِ تصور حد” تک پہنچ گیا ہے اور اسرائیل سے جنگ زدہ فلسطینی انکلیو میں غیر محدود امداد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔بدھ کے پارلیمانی اجلاس سے پہلے ایک مختصر سی تعداد میں مظاہرین ملکی پارلیمنٹ کی عمارات کے باہر جمع ہو گئے جو برتن بجا رہے تھے۔ مقامی میڈیا آرگنائزیشن سٹف نے اطلاع دی کہ مظاہرین نے نعرے لگائے “ارکان پارلیمنٹ حوصلہ کریں، فلسطین کو تسلیم کریں”۔منگل کے روز گرینز کی رکن پارلیمنٹ کلوئی سواربرک کو پارلیمنٹ کے مباحثہ چیمبر سے اس وقت ہٹا دیا گیا جب انہوں نے اپنے ایک تبصرے پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔