ٹرمپ کے ٹیرف پالیسی پر امریکہ کی وفاقی عدالت میں اٹھائے گئے سوالات، ججوں نے حیرت کا اظہار کیا

تاثیر 01 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن، یکم اگست: واشنگٹن ڈی سی میں فیڈرل سرکٹ اپیل کورٹ کے ججوں نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ کے تجارتی شراکت دار ممالک پر وسیع محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کے اختیار پر سخت سوالات اٹھائے۔ بہت سے ججوں نے بار بار اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ٹرمپ 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی پی اے) قانون کا استعمال کرتے ہوئے ٹیرف کو کیسے جوازفراہم کر سکتے ہیں؟
امریکی آن لائن اخبار ‘پولیٹیکو’ کی خبر کے مطابق جج جمی رینا نے کہا کہ ‘میری ایک بڑی تشویش یہ ہے کہ آئی پی میں ٹیرف کا لفظ کہیں بھی نہیں بتایا گیا’ ۔ جج ٹموتھی ڈک نے کہا، ”میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آئی پی اے میں کانگریس کا ارادہ صدر کو ٹیرف شیڈول کو منسوخ کرنے کا مکمل اختیار دینا تھا جو اس نے برسوں کے گہرائی سے مطالعہ کے بعد اپنایا تھا۔” دیگر ججوں نے اس بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایک قانون کا استعمال کیا جس کا مقصد صدر کو بین الاقوامی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اختیارات دینا تھا تاکہ کانگریس کی ایک اہم ذمہ داری چھینی جا سکے۔ قابل ذکر ہے کہ جج جمی رینا کو اوباما نے اور جج ٹموتھی ڈک کی تقرری کلنٹن نے کی تھی۔