چشوتی میں قدرتی آفت سے لاپتہ افراد کی تلاش پانچویں روز بھی جاری

تاثیر 18 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

جموں, 18 اگست:جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گاؤں چشوتی میں بادل پھٹنے کے سانحے کو پانچ دن بیت گئے ہیں، تاہم لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن موسلادھار بارش اور کٹھن حالات کے باوجود مسلسل جاری ہے۔ریسکیو ٹیمیں بارش میں بھی برساتی پہن کر مختلف مقامات پر سرگرم ہیں۔ بھاری مشینری، ارتھ موورز اور اسنفر ڈاگز کی مدد سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔
بتا دیں کہ 14 اگست کو بادل پھٹنے سے مچیل ماتا مندر جانے والے راستے کے آخری موٹر ایبل گاؤں چشوتی مکمل طور پر برباد ہو گیا۔ اس سانحے میں اب تک 61 افراد لقمہ? اجل بن چکے ہیں جن میں تین سی آئی ایس ایف اہلکار اور ایک اسپیشل پولیس آفیسر شامل ہیں، جب کہ سو سے زائد زخمی اور تقریباً 50 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
فلش فلڈز نے قیامت خیز تباہی مچائی، عارضی مارکیٹ اور لنگر کو ملیامیٹ کر دیا، 16 مکانات اور سرکاری عمارتوں سمیت تین مندر، چار پن چکیاں، 30 میٹر طویل پل اور ایک درجن سے زائد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔