تاثیر 23 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کی ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جا رہی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو ایک نتیجہ خیز پڑاؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے دوران واضح طور پر یہ حکم دیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لئے نوٹیفائڈ 11 مخصوص دستاویزات کے علاو ہ آدھار کارڈ بھی قبول کیا جائے۔ یہ فیصلہ ان لاکھوں ممکنہ ووٹروں کے لئے راحت کا باعث ہے، جن کے نام ،دستاویزات کی کمی کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے باہر ہو گئے تھے۔ تاہم، یہ حکم نہ صرف انتخابی عمل کی شفافیت میں اضافے کا سبب ہے بلکہ یہ انتظامی چیلنجز اور پرائیویسی کے خدشات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایس آئی آر مہم کے تحت تقریباً 85 ہزار نئے ووٹر سامنے آئے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس کی جانب سے صرف دو اعتراضات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے سیاسی جماعتوں کی اس غیر فعالیت پر حیرت کا اظہار کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے کارکنوں کو ووٹروں کی مدد کے لئے متحرک کریں۔ خاص طور پر، فارم 6 بھروایا جائے یا مقررہ 11 دستاویزات میں سے کسی ایک کے ساتھ آن لائن درخواست جمع کرانے کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ قدم ان 65 لاکھ افراد کے لئے اہم ہے جو ڈرافٹ رول سے خارج ہو چکے ہیں، سوائے ان کے جو انتقال کر چکے یا رضاکارانہ طور پر منتقل ہو گئے ہیں۔ عدالت کا یہ موقف کہ کوئی بھی شخص خود یا بی ایل او کی مدد سے آن لائن یا آف لائن درخواست دے سکتا ہے۔ ا س میں جسمانی طور پر موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس فیصلے کے مثبت پہلوؤں پر غور کریں تو یہ واضح ہے کہ آدھار کارڈ کو شامل کرنے سے ووٹر انرولمنٹ کا عمل زیادہ جامع اور قابل رسائی ہو جائے گا۔ بہار جیسی ریاست میں، جہاں غربت، نقل مکانی اور دستاویزات کی کمی عام مسائل ہیں، آدھار کارڈ ایک آسان متبادل دستاویزثابت ہو سکتا ہے۔یو آئی ڈی اے آئی کی جانب سے جاری یہ کارڈ تقریباً 90 فیصد سے زائد آبادی کے پاس دستیاب ہے، جو ووٹر لسٹ سے خارج ہونے والے افراد کو دوبارہ شامل کرنے میں مدد دے گا۔ اس سے انتخابی عمل کی شفافیت بڑھے گی اور بوگس ووٹنگ کے خدشات کم ہوں گے۔ مزید برآں، سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں شامل کرنے کا حکم جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرے گا، کیونکہ یہ جماعتیں ہی عوام کی نمائندگی کرتی ہیں۔ بوتھ لیول پر مدد سے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، لوگوں کو اپنے حقوق کا استعمال کرنے میں آسانی ہو گی۔ یہ فیصلہ انتخابات سے قبل ووٹر ٹرن آؤٹ کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، جو بہار جیسی ریاست میں تاریخی طور پر کم رہا ہے۔
تاہم، اس فیصلے کے منفی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ سب سے بڑا خدشہ پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کا ہے۔ سپریم کورٹ نے ماضی میں ہی آدھارکو لازمی قرار دینے پر پابندیاں عائد کی تھیں، اور اب اسے ووٹر لسٹ کے لیے قبول کرنے سے ڈیٹا لیکج کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ بہار میں ایس آئی آر مہم پہلے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے، جہاں الزام لگایا جاتا ہے کہ بعض کمیونٹیز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر آدھار کارڈ کو قبول کیا جائے تو غلط یا جعلی کارڈز کی وجہ سے بوگس انٹریز کا خطرہ ہے، جو انتخابی دھاندلی کو دعوت دے سکتا ہے۔ مزیدیہ کہ آن لائن سسٹم کی رسائی ہر ایک کے لئےممکن نہیں ہے؛ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل خواندگی کی کمی سے بہت سے لوگ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ سیاسی جماعتوں کی غیر فعالیت بھی ایک مسئلہ ہے۔ عدالت نے تو حکم دیا ہے، لیکن اگر جماعتیں اس پر عمل نہ کریں تو یہ محض کاغذی کارروائی ثابت ہو گی۔ بہار کی سیاست میں ذات پات اور علاقائی تقسیم کی وجہ سے، یہ عمل بعض گروپوں کو فائدہ اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جو انتخابات کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے گا۔
اس تناظر میں، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایس آئی آر مہم کو شفاف طریقے سے چلائے۔ عدالت کا فیصلہ ایک طرف تو جمہوریت کو تقویت دے گا، مگر دوسری طرف انتظامی بوجھ بڑھائے گا۔ تقریباً 65 لاکھ افراد، جنھیں ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے، میں سے تمام اہل ووٹروں کی دوبارہ شمولیت کے عمل پر نگرانی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اسے پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی فریضہ کے طور پر لیں اور اسی اعتبار سے کام کریں۔ بالآخر، یہ فیصلہ بہار کے انتخابات کو زیادہ جامع بنانے کا موقع ہے، مگر اس کی کامیابی عمل درآمد پر منحصر ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ درست طریقے سے نافذ ہو تو یہ جمہوریت کی جیت کے لئے یہ معاون ثابت ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اسے کامیاب بنائیں، تاکہ ہر شہری کا حق رائے دہی محفوظ رہے۔

