!….. تاکہ ووٹ کی طاقت سلامت رہے

تاثیر 24 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی جمہوریت کی بنیاد ووٹ کی طاقت پر قائم ہے۔یہ طاقت ہر شہری کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے بہار اسمبلی انتخابات، 2025 قریب آ رہے ہیں، ایک منفی سایہ اس مقدس عمل پر منڈلا تا جا رہا ہے۔ ووٹ چوری اور جعلی ووٹر لسٹ کے الزامات صرف سیاسی بیانات نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام سے جڑے ہوئے ہیں ، جو اعتماد کی بنیاد پر کھڑا ہے، اور اب اس اعتماد میں دراڑیں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ راہل گاندھی کی ’’ووٹر ادھیکار یاترا ‘‘بہار کے دیہاتوں اور شہروں میں گونج رہی ہے، جہاں وہ ووٹر لسٹ میں ہوئی مبینہ غلطیوں اور فراڈ کو اجاگر کر رہے ہیں۔ اسی دوران، مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی ایک دھماکہ خیز بیان دیا ہے، جس نے نہ صرف اپوزیشن کی آواز کو تقویت دی ہےبلکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب راج ٹھاکرے نے پونے میں اپنے پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 10 سالوں سے ووٹ چوری کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق، 2016 سے وہ اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں اور اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈروں جیسے شرد پوار، سونیا گاندھی اور ممتا بنرجی سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ ٹھاکرے کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن نے جان بوجھ کر اس کی جانچ نہیں کی، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو’’پچھلے 10 سالوں کی ووٹ چوری کا پردہ فاش ہو جائے گا‘‘۔ انہوں نے اپنے امیدواروں کی 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ناکامی کو بھی اسی سے جوڑا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ان کے لئے ڈالے گئے ووٹ کبھی ان تک پہنچے ہی نہیں‘‘۔ یہ الزامات ایک گہرے خدشے کی عکاسی کرتے ہیں، جو ووٹر لسٹ کی شفافیت پر اٹھ رہے ہیں۔ ٹھاکرے نے اپنے کارکنان کو ہدایت دی ہے کہ وہ ووٹر لسٹ کی باریک بینی سے جانچ کریں تاکہ فراڈ کا انکشاف ہو سکے۔
اس کہانی میں راہل گاندھی کا کردار بھی مرکزی ہے۔ بہار میں ان کی یاترا نہ صرف ووٹرز کو بیدار کرنے کی کوشش ہے بلکہ ایک بڑے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بھی۔ گاندھی نے کرناٹک کے مہادیوپورا اسمبلی سیگمنٹ میں ہونے والے مبینہ ووٹر فراڈ کا حوالہ دے رہے ہیں، جہاں ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے ساتھ مل کر ووٹو ں کی چوری کی ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کا بھی ذکر کیا ہے، جہاں لوک سبھا انتخابات میں انڈیا بلاک کی کامیابی کے بعد اسمبلی انتخابات میں ان کی بری طرح سے ناکامی سامنے آئی تھی۔ بہار میں کانگریس اور آر جے ڈی کی مشترکہ یاترا  میں یہ الزامات گونج رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے جن ووٹرز کو ’’مردہ ‘‘ قرار دے کر ووٹر لسٹ سےان کے نام حذف کیے ہیں، وہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔ یہ الزامات بہار جیسی ریاست میں، جہاں انتخابی سیاست کا لیول بہت ہائی ہوتا ہے، مزید کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔
لیکن یہ کہانی ایک طرفہ نہیں ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے راج ٹھاکرے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ فڑنویس کا کہنا ہے کہ ٹھاکرے اپنی پارٹی کی اندرونی ناکامیوں کو چھپانے کےلئے سازش کا سہارا لے رہے ہیں، اور یہ کہ ایم این ایس کی ناکامی کا ذمہ دار ان کا اپنا جھوٹ اور عوام کی توہین ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی راہل گاندھی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ً ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے گاندھی نے آئین کے حلف کا حوالہ دے کر مسترد کر دیاہے۔حالانکہ بی جے پی نے الزام لگایاہے کہ کانگریس خود ووٹ چوری میں ملوث ہے، جیسا کہ پرتھوی راج چوان کی فیملی کے متعدد جگہوں پر ووٹ ڈالنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ ردعمل ظاہر کرتے ہیں کہ الزامات سیاسی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، اور حقیقی فراڈ کی بجائے انتخابی ماحول کو گرم کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
مذکورہ صورتحال کی وجہ سے جمہوریت کی بنیاد کس طرح مجروح ہو رہی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اگر ووٹ چوری کے الزامات سچے ہیں، تو یہ نہ صرف الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے۔ پچھلے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح بلند رہی ہے، لیکن اگر لسٹ میں فراڈ ہے تو یہ جمہوریت کی روح کے لئے نقصاندہ ہے۔ دوسری طرف، اگر یہ الزامات بے بنیاد ہیں تو یہ انتخابی عمل کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، جو سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔اب حقیقت حال خواہ جو بھی ہو،  الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ شفاف جانچ کا اعلان کرے اور ووٹر لسٹ کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیز کرے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ثبوت کے ساتھ بات کریں، نہ کہ محض بیان بازی سے کام لیں۔ ووٹرز کو بیدار رکھنے کی یاترا جیسی مہمات اچھی ہیں، لیکن انہیں سیاسی مفاد سے بالاتر ہونا چاہیے۔ یہ طے ہےکہ بھارت کی جمہوریت اسی وقت تک مضبوط رہے گی جب ہر ووٹ کی قدر اور حفاظت یقینی ہو۔چنانچہ یہ آزمائش کا وقت ہے، ایک ایسی آزمائش کا وقت جہاں الزامات کی بجائے حل کی تلاش زیادہ ضروری ہے،تاکہ ووٹ کی طاقت سلامت رہے، اس کو کسی کی نظر نہ لگے ۔
***********************