تاثیر 27 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام):-حفظ قرآن اللہ رب العزت کی بڑی نعمت اور رب کائنات کا بڑا انعام ہے،جس نے قران کو اپنے سینے میں محفوظ کیا وہ اللہ تعالی کے اس نظام کا حصہ بنا جو رب کائنات نے قرآن کی حفاظت کے لیے بنایا ہے اس لیے حافظ قرآن کی قدر کرنی چاہیے اور وہ ادارے جہاں سے حفاظ تیار ہوتے ہیں ان اداروں کو اپنی حلال کمائی سے مضبوط کرنا چاہیے ملک کے موجودہ حالات میں اگر یہ ادارے باقی نہیں رہیں گے تو مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ اور شریعت اسلامی کی بقا کا مسئلہ بہت دشوار ہوگا اس لیے جس طرح دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے لیے اپنی کمائی کا 10 فیصد حصہ مذہبی اداروں کو دیتے ہیں ہمیں بھی اسی طرح کا مزاج بنانا چاہیے تاکہ ہمارے ادارے باقی رہیں اور علماء و حفاظ تیار ہوتے رہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کی آزادی کے لیے سب سے پہلے جو آواز اٹھی وہ مدرسے کی چٹائی سے اٹھی تھی اس لیے اگر ہمیں ملک و ملت کی حفاظت کے لیے مجاہد تیار کرنا ہے تو ان اداروں کے تحفظ کی فکر بھی کرنی ہے یہ باتیں مفتی ارشد علی رحمانی قاضی شریعت دارالقضا امارت شرعیہ مہدولی دربھنگہ نے تکمیل قرآن کی نسبت پر منعقد مجلس سے مدرسہ اسلامیہ اشاعت العلوم بلواہا دربھنگہ میں کہیں، قاضی صاحب نے کہا کہ علاقہ کے ذمہ داروں کو اپنے دینی اداروں کی بقا کے لیے مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ ادارہ کے ذمہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر مشورہ کرنا چاہیے تاکہ تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے اور ادارہ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے موصوف نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں ہم سب لوگوں کو ہمیشہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ کام کرنا چاہیے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اور اگر ایسا کریں گے تو انشاءاللہ ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اللّٰہ سے ڈرنے والے کسی اور سے نہیں ڈرتے ،انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو اپنے علماء سے رشتہ مضبوط رکھنا چاہیے۔
مجلس کا آغاز مدرسہ اسلامیہ اشاعت العلوم کے استاد کی تلاوت سے ہوا، قاری احسان فاروقی نے خوبصورت انداز میں نظامت کرتے ہوئے نعتیہ اشعار بھی پیش کیا، مدرسہ کے مہتمم مولانا محمد اعجاز سبیلی نے کلمات تشکر پیش کیا اور قاضی شریعت کی دعا پر مجلس ختم ہوئی ۔اس موقع پر علاقہ کے مؤقر علماء کرام موجود تھے ان میں مولانا خالد سیف اللہ قاسمی مولانا محمد اظہر قاسمی مولانا محمد سجاد حافظ محمد فیاض قاری ناز احمد وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔مولانا عبد القادر صاحب استاذ مدرسہ ہذا اور طلبہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

