امنِ عالم کے لئے فلسطین کی حمایت ضروری

تاثیر 10 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

فلسطینیوں کی جدوجہد کی علامت غزہ شہر ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کے نشانے پر ہے۔ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ سٹی پر’’قبضہ‘‘ کی منصوبہ بندی کو منظوری دے دی ہے۔اس منظوری کو ماہرین، جاری جنگ کے درمیان ایک بڑا اور متنازع قدم بتا ر ہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی کے شمالی حصے کو نشانہ بنا نے والا یہ فیصلہ لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈالنے والا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سے’’بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی‘‘ اور’’مزید ہلاکتیں‘‘ ہو سکتی ہیں۔ جبکہ حماس نے’’سخت مزاحمت‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ عالمی سطح پر، خاص طور پر مسلم ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فلسطینی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان، قطر، کویت اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس کی شدید مذمت کی ہے، جو فلسطینی عوام کی حمایت میں ایک متحدہ آواز کی عکاسی کرتی ہے۔
ظاہر ہےاسرائیل کایہ فیصلہ غزہ میں جاری انسانی بحران کو مزید گہرا کرنے ولا ہے۔ غزہ سٹی، جو جنگ سے پہلے سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ تھا، اب ویرانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) غزہ سٹی پر کنٹرول کی تیاری کر رہی ہیں، جو پانچ ’’اصولوں‘‘ پر مبنی ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ غزہ پٹی پر مکمل قبضے کا پہلا مرحلہ ہے۔اسرائیل کایہ منصوبہ سے فلسطینیوں کی مزید نقل مکانی اور ہلاکتوں کا باعث بن سکتا ہے۔گرچہ حماس نے اسے’’نیا جنگی جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ قدم اسرائیل کو مہنگا پڑے گا۔ فلسطینیوں کے لئے یہ نہ صرف ایک فوجی حملہ ہے بلکہ ان کی شناخت اور حقوق پر ڈاکہ ہے، جو 1967 سے جاری قبضے کی توسیع ہے۔
دوسری طرف مسلم دنیا کا ردعمل اس بحران کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔ سعودی عرب نے اسے فلسطینیوں کے خلاف ’’نسل کشی کی پالیسی‘‘ کا حصہ قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری اور سلامتی کونسل نے اسرائیلی جارحیت کو نہ روکا تو یہ عالمی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر دے گا۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیلی جرائم کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہیںتاکہ فلسطینیوں پر انسانی بحران ختم ہو سکے۔‘‘  قطر نے اسرائیلی فیصلے کو انسانی بحران کو مزید سنگین بنانے اور جنگ بندی کی کوششوں کو کمزور کرنے والا قرار دیا ہے، جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ فلسطینی زمین پر طویل قبضے کی وجہ سے ہے اور جب تک یہ ختم نہیں ہو گا، امن ایک خواب رہے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ معصوم شہریوں کی حفاظت اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ کویت نے اسے بین الاقوامی اور انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ بتایا ہے۔ او آئی سی نے خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ انسانی صورت حال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔اس نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل مستقل جنگ بندی نافذ کرے، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنائے اور فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرے۔ ترکی نے اسرائیل کے ارادوں پر سوال اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی کوشش ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے غزہ میں فوری جنگ روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے، جن میں بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی، ہلاکتیں اور تباہی شامل ہے۔ یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور جرمنی نے بھی اس کی مذمت کی ہے، جبکہ جرمنی نے اسرائیل کو فوجی برآمدات روک دی ہیں۔ یہ ردعمل ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی اقدام عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حماس کے خلاف حفاظتی اقدامات ہیں، جو اکتوبر، 2023 کے حملوں کے بعد سے جاری ہیں۔ اسرائیلی دفاعی وزیر اسرائیل کاٹز نے بین الاقوامی مذمت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ یہ موقف اسرائیل کی داخلی سیاست اور سیکوریٹی سے متعلق خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔اس کے بر عکس دنیا اس بات کو سمجھ رہی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کر رہا ہے اور جنگ کو طول دے رہا ہے۔
ظاہر ہےیہ بحران صرف غزہ تک محدود نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی امن کی بنیادوں کو بھی ہلا رہا ہے۔ فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی وخودمختاری بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔چنانچہ بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ جنگ بندی، انسانی امداد اور 1967 کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرے۔خدا نخواستہ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ نہ صرف فلسطینیوں کی نسل کشی ہو گی بلکہ عالمی امن کا بحران بھی پیدا ہو جائے گا۔ فلسطین کی حمایت میں متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ انصاف کی فتح ہو سکے۔
**************************