تاثیر 13 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے اثرات ’علامتی‘ ہونے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی واشنگٹن کا یہ قدام اسلام آباد کے ساتھ گرمجوشی کے تعلقات اور نئے تجارتی معاہدوں کے درمیان سامنے آیا ہے، لیکن اس سے گروپ کی دہشت گردی کو روکنے میں زیادہ مدد نہیں ملے گی۔ بی ایل اے کی فنانسنگ اور آپریشنز امریکی پابندیوں کی پہنچ سے باہر نیٹ ورکس پر مبنی ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ کے مطابق اگرچہ امریکی محکمہ خارجہ نے بلوچ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو اپنی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں (ایف ٹی او) کی فہرست میں شامل کیا ہے لیکن اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قائم علیحدگی پسند گروپ بی ایل اے کو اس سے قبل 2019 میں امریکہ اور 2006 میں برطانیہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ خبر کے مطابق یہ قدم اسلام آباد کی سفارتی فتح ہے۔ لیکن عملی طور پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے بی ایل اے کی آپریشنل صلاحیت پر کوئی اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔

