وزیر اعظم کی سفارتی حکمت عملی

تاثیر 30 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ جاپان اور چین دورہ عالمی سیاست کے افق پر ایک نئی روشنی کی مانند ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں دنیا بھر میں ہلچل مچا رہی ہیں، اور بھارت پر 50 فیصد ٹیرف کا بوجھ ڈال کر امریکہ نے اپنے ہی اتحادیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مودی جی، جو ہمیشہ سے ہی ایک دور اندیش لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے اس بحران کو ایک موقع میں تبدیل کر دیا۔ ان کا دو روزہ جاپان دورہ اور اس کے بعد شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن(ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین کا دورہ، نہ صرف بھارت کی سفارتی طاقت کا مظہر ہے بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
ٹوکیو کی چمکتی ہوئی گلیوں میں مودی جی کا استقبال، جہاں جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کے ساتھ ان کی ملاقات نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ یہ ملاقات محض رسمی نہیں تھی؛ یہ ایک اسٹریٹجک قدم تھا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ کئی اہم معاہدوں پر بات چیت ہوئی ہے، جو بھارت کی ’’میک ان انڈیا‘‘ مہم کو مزید تقویت دے گی۔ جاپان، جو ایشیا کی معاشی طاقت ہے، بھارت کے ساتھ مل کر انڈو-پیسیفک خطے میں استحکام لائے گا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے، جب امریکہ کی ٹیرف پالیسیاں بھارت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ لیکن مودی جی نے اسے نظر انداز کر کے جاپان کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کیا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اب کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرےگا۔
اب رہی بات چین کی۔ تقریباً سات سال بعد مودی جی کا چین کا دورہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ تیانجن شہر میںآج 31 اگست اورکل  یکم ستمبر کو ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت، جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت دیگر رہنما موجود ہوں گے، عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ اجلاس محض ایک میٹنگ نہیں؛ یہ امریکہ کی تجارتی جنگ کے خلاف ایک متحدہ جواب کی تیاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، جب ٹرمپ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ شروع کی، تو چین نے فوراً بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ایک خط بھی لکھا گیا، جو خاموش انداز میں تعاون کی دعوت تھا۔ مودی جی نے اس موقع کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ یہ دورہ بھارت-چین تعلقات کو بہتر بنانے کا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر سرحدی تنازعات کے بعد۔
مودی جی کی یہ سفارتی حکمت عملی برکس(بی آر آئی سی ایس) ممالک کو متحد کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ امریکی ماہر معاشیات رچرڈ وولف نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیاں غلط ثابت ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی نظام میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے اور بھارت کا روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ طاقت کا توازن اب امریکہ سے ہٹ کر برکس کی طرف جھک رہا ہے۔ امریکہ کے دباؤ کی پالیسیاں برکس کو مزید مضبوط اور متحد بنا رہی ہیں۔ مودی جی، جو برکس کے بانی ممالک میں سے ایک کے لیڈر ہیں، نے اس موقع کو سمجھا اور ایس سی او کے پلیٹ فارم پر اسے استعمال کیا۔ اجلاس میں ممکنہ طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جو امریکہ کی ٹیرف پالیسیوں کا کرارا جواب دے گا۔ اس کے علاوہ،ایس سی اوکی ترقیاتی حکمت عملی کی منظوری، سیکورٹی اور معاشی تعاون کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بحث ہو گی۔ یہ سب مودی جی کی قیادت میں بھارت کی عالمی حیثیت کو بلند کرے گا۔
یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ مودی جی کی خارجہ پالیسی ایک شطرنج کی بساط کی مانند ہے، جہاں ہر چال سوچی سمجھی ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے دنیا بھر میں افراتفری پھیلائی ہے، لیکن مودی جی نے اسے بھارت کے فائدے میں تبدیل کر دیا۔ جاپان کے ساتھ دفاعی اور ٹیکنالوجی تعاون، چین کے ساتھ تجارتی توازن، اورایس سی او میں متحدہ موقف، یہ سب بھارت کو ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھارتے ہیں۔ امریکی دباؤ کے باوجود روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنا مودی جی کی خودمختاری کی پالیسی کا ثبوت ہے۔ یہ نہ صرف معاشی استحکام کو یقینی بناتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی آزادی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
الغرض، یہ دورہ یہ پیغام دیتا ہے کہ مودی جی کی قیادت میں بھارت اب کسی کی کٹھ پتلی نہیں ہے۔ وہ ایشیا کی طاقتوں کو متحد کر کے امریکہ کی یک طرفہ پالیسیوں کے سامنے سینہ سپر ہے۔یہ سفارتی کامیابی نہ صرف بھارت کی معیشت کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی امن اور توازن میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ مانا جا رہا ہےکہ مودی جی کی یہ حکمت عملی آنے والے سالوں میں بھارت کو نئی بلندیوں تک ضرور لے جائے گی۔
*******************