غزہ میں جنگ کی توسیع کے خلاف اسرائیل میںہزاروں افراد کا مظاہرہ

تاثیر 10 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،10اگست:تل ابیب میں کل ہفتے کے روز ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج ایسے وقت سامنے آیا جب اسرائیلی حکومت نے جنگ کو وسعت دینے اور غزہ شہر پر قبضے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ غزہ میں ایک روز قبل 37 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں اکثریت امداد کے منتظر افراد کی تھی۔مظاہرین نے بینر اور قیدیوں کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں جو اب بھی غزہ میں قید ہیں۔ انھوں نے حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔صحافیوں نے مظاہرین کی تعداد کئی ہزار بتائی جبکہ قیدیوں کے اہل خانہ کے فورم نے کہا کہ تقریباً ایک لاکھ افراد اس مظاہرے میں شریک ہوئے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، لیکن شرکا کی تعداد پہلے کے حکومت مخالف جنگی مظاہروں سے کہیں زیادہ تھی۔
ایک مقتول قیدی کے رشتے دار شاہار مور زہارو نے کہا “وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے یہ براہِ راست پیغام ہے … اگر آپ نے غزہ کے کچھ حصوں پر حملہ کیا اور قیدی مارے گئے، تو ہم آپ کا پیچھا کریں گے … شہر کی گلیوں میں، انتخابی مہموں میں، ہر وقت اور ہر جگہ۔”جمعے کو نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے شمالی غزہ کے شہر پر قبضے کے بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دی، جس پر ملک کے اندر اور باہر سے تنقید کی گئی۔کئی غیر ملکی قوتیں، جن میں اسرائیل کے کچھ اتحادی بھی شامل ہیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ قیدیوں کی رہائی اور انسانی بحران میں کمی کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا جائے۔