انتخابی اصلاحات میں شفافیت ضروری

تاثیر 17 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کا تنازع  شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ عمل، جو انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے نام پر شروع کیا گیا تھا، ا ن دنوں سیاسی الزامات اور عدالتی مداخلت کی زد میں ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اسے’’ووٹ کی چوری‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اسے شفافیت کی کوشش بتارہاہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف بہار کے انتخابی سالمیت پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ پورے ملک میں جمہوری عمل  اعتبار پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
اپوزیشن کے لیڈرراہل گاندھی نے ایس آئی آر میں مبینہ گڑ بڑی کو لیکرکل سے بہار میں’’ووٹر رائٹس یاترا‘‘ کی شروعات کی۔اس موقع پر انھوں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے نام پر ووٹر لسٹ میں نام شامل اور حذف کر کے ووٹ چوری کا راستہ تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ این ڈی اے ارب پتیوں کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہی ہے اور عوام کے ووٹ چوری کیے جا رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے مہاراشٹر اور بنگلور کی مثالیں دیں، جہاں نئے ووٹرز کے اضافے کو بی جے پی کے حق میں جوڑا گیا۔ انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر آئین کو ختم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ آئین کو بچانے کی لڑائی ہے۔ یاترا میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے، آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو، تیجسوی یادو اور دیگر اتحادی شامل ہوئے۔ یہ یاترا 16 دنوں میں 20 سے زائد اضلاع کا احاطہ کرے گی اور 1300 کلومیٹر کا سفر طے کرے گی، جس کا مقصد ایس آئی آر کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ راہل کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دباؤ میں ذات پات کی مردم شماری کی بات تو کی، مگر حقیقی مردم شماری نہیں کرائیں گے۔ ظاہر ہے،یہ الزامات اپوزیشن کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو انتخابی عمل میں مبینہ گڑبڑیوں کو سیاسی ہتھیار بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب، سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کوپچھلے دنوں سخت ہدایات جاری کیں۔ جسٹس سوریہ کانت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ اگر 22 لاکھ لوگوں کی موت ہوئی ہے تو بوتھ سطح پر اس کا انکشاف کیوں نہیں کیا جاتا؟ عدالت نے نوٹ کیا کہ 65 لاکھ نام حذف کیے گئے، جن میں سے 22 لاکھ اموات کی وجہ سے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ شہریوں کے حقوق سیاسی پارٹیوں پر منحصر نہیں ہونے چاہئیں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ حذف شدہ 65 لاکھ لوگوں کے نام کی فہرست، وجوہات سمیت، ضلعی انتخابی افسروں کی ویب سائٹس پر شائع کی جائے۔ اس کے علاوہ، مقامی اخبارات، ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کی جائے۔ تمام پنچایت بھونوں اور بلاک دفاتر میں بوتھ وائز فہرستیں لگائی جائیں تاکہ ان تک لوگوںکی رسائی آسان ہو۔ عدالت نے افسروں سے کمپلائنس رپورٹ طلب کی اور اگلی سماعت 22 اگست کو طے کی۔ یہ ہدایات شفافیت کو یقینی بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہیں، جو انتخابی عمل کی اعتبار کو بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ عدالت کی مداخلت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی آر میں ممکنہ خامیاں موجود ہیں، مگر یہ عمل خود میں غلط نہیں بلکہ اس کی عملداری پر سوال ہے۔
اِدھرالیکشن کمیشن نے متعلقہ الزامات کا جواب دیتے ہوئے کل ایک پریس کانفرنس کی، جہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ آئین کے مطابق 18 سال کے ہر شہری کو ووٹر بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کسی پارٹی سے امتیازی سلوک نہیں کرتا؛ نہ کوئی اپوزیشن ہے نہ سرکار۔’’ووٹ چوری‘‘ جیسے الفاظ غلط ہیں اور یہ آئین کی توہین ہے۔ ایس آئی آر غلطیوں کی اصلاح کے لئے ہے۔ بہار میں 7 کروڑ ووٹرز کمیشن کے ساتھ ہیں اور صرف فہرست میں شامل لوگ ہی ووٹ دیتے ہیں۔ کمشنر نے کہا کہ کمیشن کے کندھے پر بندوق رکھ کر سیاست کی جا رہی ہے، جو عوام کی توہین ہے۔ راہل گاندھی نے کرناٹک کی مثال دے کر الزامات لگائے تھے، مگر کمیشن کا موقف ہے کہ یہ عمل جمہوری ہے۔ یہ دفاع گرچہ کمیشن پر لگ رہے الزامات کے حوالے سے ایک طرح سے صفائی کی مانند ہے، مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ الزامات کی شدت سے ادارے کی ساکھ پر اثر پڑ رہا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ تنازع جمہوریت کی بنیادوں کو چیلنج کر رہا ہے۔ اپوزیشن ایس آئی آر کو سازش قرار دے کر عوامی جذبات کو ملک کی آئینی اقدار کے تحفظ کی بات کر رہی ہے، جبکہ عدالت کی ہدایات سے ایس آئی آر میں شفافیت آنے کا امکان بڑھا ہے۔ الیکشن کمیشن کا دفاع درست لگتا ہے، مگر حذف شدہ ناموں کی تعداد تشویش کا باعث ہے۔ اگر ایس آئی آر درست طریقے سے ہو تو یہ انتخابی عمل کو مضبوط بنائے گی، ورنہ یہ یقینی طور پر سیاسی ٹکراؤ کا سبب بنے گی۔ بہار جیسی ریاست میں، جہاں انتخابات شدید مقابلے والے ہوتے ہیں، ایسے اقدامات کی نگرانی ضروری ہے تاکہ ہر شہری کا ووٹ محفوظ رہے۔ یہ صورتحال پورے ملک کو سبق دیتی ہے کہ انتخابی اصلاحات میں شفافیت اولین ترجیح ہونی چاہئے۔
**************