اتراکھنڈ کی تباہی: انسانی لاپرواہی کا شاخسانہ

تاثیر 06 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اتراکھنڈ کے دھرالی گاؤں میں 5 اگست، 2025 کو بادل پھٹنے اور سیلاب جیسی تباہی نے ایک بار پھر ہمالین خطے کی نازک ماحولیاتی صورتحال کو عیاں کر دیا ہے۔ وادیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین جیولوجی (ڈبلیو آئی ایچ جی) کی رپورٹس اور حالیہ واقعات سے یہ واضح ہے کہ گلوبل وارمنگ، غیر قانونی تعمیرات، اور ماحولیاتی عدم توازن اس تباہی کے بنیادی اسباب ہیں۔
دھرالی میں چار افراد کی ہلاکت اور 50 سے زائد کے لاپتا ہونے کے واقعے نے ہمالین خطے کی کمزوری کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ ڈبلیو آئی ایچ جی کی رپورٹس کے مطابق، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، جو گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے، ہمالین ندیوں جیسے خیر گنگا، رشی گنگا، اور دھولی گنگا میں غیر متوقع سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔ 2021 کی چمولی آفت، جس میں چٹان اور برف کے تودے نے 200 سے زائد جانیں لیں، اور 2013 کی کیدارناتھ تباہی، جس نے 5,000 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا، اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ گلیشیئر کی غیر مستحکم حرکیات کس طرح تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ دھرالی میں حالیہ آفت بھی ممکنہ طور پر گلیشیئر جھیل کے پھٹنے یا برف کے بڑے بڑے تودے درکنے سے وابستہ ہے، جیسا کہ ڈبلیو آئی ایچ جی کے ابتدائی تجزیوں میں اشارہ کیا گیا ہے۔ عالمی حرارت نے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو بیسویں صدی کے مقابلے میں دگنا کر دیا ہے، جس سے ندیوں کا پانی غیر متوقع طور پر بڑھ رہا ہے۔
غیر قانونی تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی نے اس صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ ڈبلیو آئی ایچ جی کی 2023 کی جواشی مٹھ رپورٹ نے واضح کیا تھا کہ غیر منصوبہ بند تعمیرات اور چھوٹے زلزلوں نے زمین کے دھنسنے کی وجہ بن کر سینکڑوں گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ دھرالی اور سکھ ٹاپ جیسے سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں کی بے ہنگم تعمیر نے مٹی کے کٹاؤ کو بڑھاوا دیا ہے، جو سیلاب اور تودوں کا باعث بنتا ہے۔ 2013 کی اتراکاشی آفت میں بھی جنگلات کی کٹائی اور مٹی کے کٹاؤ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ سیاحت کے نام پر بے قابو ترقی نے ہمالین ماحولیاتی نظام کو کمزور کیا ہے، جس سے چھوٹے پیمانے کے واقعات بھی بڑی تباہی کا روپ دھار لیتے ہیں۔
اتراکھنڈ کی آفات کا ایک اور اہم پہلو بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیاں ہیں۔ سیاحت اور صنعتی ترقی نے ہمالین خطے پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ڈبلیو آئی ایچ جی نے تجویز کیا ہے کہ واٹر مینجمنٹ اور ماحولیاتی آگاہی سے اس نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، زمینی سطح پر اس کی عملداری محدود رہی ہے۔ مثال کے طور پر، چمولی آفت میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو شدید نقصان پہنچا، جو غیر مستحکم علاقوں میں تعمیر کیے گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ترقیاتی منصوبہ بندی، جو ماحولیاتی حدود کو نظر انداز کرتی ہے، مستقبل میں مزید تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
سرکاری ردعمل کے طور پر، وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے دھرالی کے لئے فوری طور پر صحت کی سہولیات، بشمول آئی سی یو بیڈز اور نفسیاتی ماہرین کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ این ڈی آر ایف اور فوج کے ریسکیو آپریشن جاری ہیں، لیکن خراب موسم اور سڑکوں کی بندش امدادی کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ڈبلیو آئی ایچ جی نے زور دیا ہے کہ طویل مدتی حل کے لئے ماحولیاتی تحفظ ناگزیر ہے، جس میں سخت تعمیراتی ضابطوں اور جنگلات کی بحالی کے پروگرام شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق دھرالی کی حالیہ تباہی ہمالین خطے کے لئے ایک وارننگ ہے۔ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو عالمی سطح پر کم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پائیدار ترقیاتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ایکس پر پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام بھی جنگلات کی کٹائی اور غیر منظم ترقی کو اس تباہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے ، تو اتراکھنڈ جیسی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہوگا۔ ماحولیاتی تحفظ، سائنسی تحقیق، اورسرکاری پالیسیوں کے امتزاج سے ہی اس خطے کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ اتراکھنڈ کی یہ تباہی صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ انسانی لاپرواہی اور ماحولیاتی بے حسی کا نتیجہ ہے، جسے اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
*******************