تاثیر 15 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
آج17اگست 2025 ہے، اور بھارتی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے استعفیٰ کے بعد سے ہی یہ سوال گردش کر رہاہےکی این ڈی اے اتحاد کا نائب صدر کےلئے امیدوار کون ہوگا۔ آج بی جے پی کی پارلیمانی بورڈ کی اہم میٹنگ ہونے جا رہی ہے، جو اس انتخاب میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ میٹنگ صرف ایک امیدوار کے نام پر مہر لگانے کی نہیں، بلکہ این ڈی اے کی داخلی ہم آہنگی اور قومی سطح پر اس کی حکمت عملی کی عکاسی بھی کرے گی۔ 15 اگست کو بی جے پی صدر جے پی نڈا کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر سینئر لیڈروں نے اس موضوع پر تفصیلی بحث کی تھی۔ این ڈی اے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور جے پی نڈا کو اس دوسرے اعلیٰ آئینی عہدے کے لئے امیدوار کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے، جو اتحاد کی مرکزی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے۔
یہ انتخاب صرف ایک سیاسی تقرری نہیں، بلکہ بھارتی جمہوریت کی ایک اہم کڑی ہے۔ نائب صدر کا عہدہ راجیہ سبھا کی صدارت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، جو پارلیمنٹ کی کارروائیوں کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ این ڈی اے، جو 293 لوک سبھا سیٹوں کے ساتھ اکثریت میں ہے، اس انتخاب کو اپنی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کےلئے استعمال کر سکتا ہے۔ ممکنہ امیدواروں میں سابق نائب صدر وینکایا نائیڈو، آر ایس ایس کے مفکر شیزشادری چاری، اور کئی موجودہ یا سابق گورنرز کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ یہ نام نہ صرف بی جے پی کی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں، بلکہ علاقائی توازن کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جنوبی ریاستوں سے کسی امیدوار کا انتخاب این ڈی اے کو مزید وسیع بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جہاں بی جے پی کی گرفت اب بھی کمزور ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ انتخاب این ڈی اے کی داخلی سیاست کو بھی عیاں کرے گا۔ اتحاد میں شامل جماعتیں جیسے ٹی ڈی پی، جے ڈی یو اور شیو سینا، اپنے مفادات کی حفاظت چاہتی ہیں۔ بی جے پی نے اتحادیوں سے توقع کی ہے کہ وہ منتخب امیدوار کی حمایت کریں، جو ایک طرف اتحاد کی یکجہتی کی علامت ہے، تو دوسری طرف ممکنہ اختلافات کو چھپانے کی کوشش بھی۔ 20 اگست کو ممکنہ این ڈی اے عشائیہ تقریب اور 21 اگست کو نامزدگی کے لئے تمام این ڈی اے حکمران ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ کو دہلی بلانا، اس عمل کو شفاف اور متحد دکھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مزید یہ کہ، بی جے پی نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو 6 سے 9 ستمبر تک دہلی میں موجود رہنے اور ووٹنگ ورکشاپ میں شرکت کا حکم دیا ہے، جو 9 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کی تیاریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ایک طرف این ڈی اے کی یہ کوششیں اس کی منظم اور مرکزی قیادت کی طاقت کو ظاہر کرتی ہیں، جو 2014 سے اب تک کی حکومتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اقتصادی اصلاحات، ڈیجیٹل انڈیا، اور خارجہ پالیسی میں کامیابیاں اس قیادت کی بدولت ہیں۔ لیکن دوسری جانب، اپوزیشن جماعتیں جیسے کانگریس اور انڈیا اتحاد، اسے بی جے پی کی ’’ہائی کمانڈ کلچر‘‘ کا مظہر قرار دے رہی ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ انتخاب جمہوری عمل کی بجائے ایک ’’ربڑ اسٹامپ‘‘ تقرری ہوگی، جو آئینی اداروں کی آزادی کو کمزور کر سکتی ہے۔ حالیہ سالوں میں راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی اور قوانین کی جلد بازی میں منظوری جیسے واقعات اس تنقید کو تقویت دیتے ہیں۔ مزید برآں، علاقائی پارٹیوں کی ناراضگی کا خطرہ بھی موجود ہے؛ اگر امیدوار کا انتخاب اتحادیوں کی مشاورت کے بغیر ہوا تو یہ این ڈی اے کی بنیادوں کو ہلا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں کئی اتحادوں میں دیکھا گیا ہے۔
اس انتخاب کا وسیع تر تناظر بھارتی سیاست کی تبدیل ہوتے منظر نامے سے جڑا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کو اکثریت ملی، لیکن بی جے پی کی سیٹیں کم ہوئیں، جو علاقائی قوتوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ نائب صدر کا انتخاب ایسے میں اتحاد کو مضبوط کرنے کا موقع ہے، لیکن یہ سماجی انصاف اور صنفی توازن جیسے مسائل کو بھی مدنظر رکھنے کا موقع ہے۔ مثال کے طور پر، خواتین یا پسماندہ طبقات سے امیدوار کا انتخاب این ڈی اے کو مزید جامع بنا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر، بھارت کی بڑھتی ہوئی حیثیت میں یہ عہدہ خارجہ تعلقات میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے، جیسا کہ ماضی کے نائب صدور نے کیا۔
بہر حال یہ انتخاب صرف ایک شخص کا نہیں، بلکہ بھارتی جمہوریت کی سمت کا تعین کرے گا۔ این ڈی اے کو چاہیے کہ وہ شفافیت اور مشاورت کو ترجیح دے، تاکہ یہ عمل قومی اتحاد کی علامت بنے۔ اگر یہ کامیاب رہا تو یہ این ڈی اے کی قیادت کو مزید مستحکم کرے گا، ورنہ اپوزیشن کو حملے کا موقع دے گا۔ آج کی سیاست میں، جہاں تقسیم اور اتحاد کی کشمکش جاری ہے، یہ انتخاب ایک نئے بھارت کی بنیاد رکھ سکتا ہے، ایک ایسا بھارت جہاں آئینی عہدے سیاسی آلہ کار نہ بنیں، بلکہ قومی خدمت کے لئے وقف ہوں۔ یہ موقع ہے کہ تمام فریقین اسے پارٹی کی جیت کی جگہ جمہوریت کی فتح میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
*******
“

