انصاف کی یہ تلاش کب مکمل ہوگی؟

تاثیر 04 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

12ستمبر، 2008 کا وہ المناک دن مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں کے لئے ایک سیاہ باب بن گیا۔ جمعہ کی نماز کے فوراً بعد دو بم دھماکوں نے شہر کو لرزا کر رکھ دیا۔ چھ معصوم جانیں چھن گئیں، اور سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ یہ دھماکے ایک عبادت گاہ کے قریب ہوئے تھے۔اس کےبعد پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں کے دلوں میں خوف کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھا کہ آخر کون اتنا بے رحم ہو سکتا ہے، جو عبادت کے مقدس لمحات کو بھی خون آلود کر دے؟
ابتدائی تحقیقات میں ممبئی اینٹی ٹیررزم اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے چند مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، لیکن ناکافی شواہد کی بنا پر انہیں رہا کر دیا گیا۔ 2011 میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے کیس کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔پھر تفتیش کا رخ بدل گیا۔ نئے شواہد نے ہندو انتہا پسند تنظیم ’’ابھینو بھارت‘‘ کی طرف اشارہ کیا۔ ہیمانشو کمار، پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پروہت اور دیگر ملزم نامزد ہوئے۔ لوگوں نے امید باندھی تھی کہ شاید اب انصاف ملے گا۔ مگر بھلا یہ کسے معلوم تھا کہ انصاف کا یہ ایک طویل اور پیچیدہ سفر کا آغاز ثابت ہوگا !
پچھلے ہفتے(31جولائی، 2025 ) ممبئی کی این آئی اے عدالت نے ایک غیر متوقع فیصلہ سنایا۔ تمام سات ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جا سکے ہیں۔ صرف شک کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ کئی گواہ اپنے ابتدائی بیانات سے مکر گئے، اور دھماکہ خیز مواد یا ملزمان سے براہ راست تعلق کے شواہد غائب تھے۔ عدالت کے ذریعہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی ’’یو اے پی اے‘‘کے غلط اطلاق کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے، یہ فیصلہ ملزمان کے لئے راحت کا سامان بن کر آیا ہے، لیکن متاثرین کے خاندانوں کے لئے ایک گہرا صدمہ ثابت ہوا ہے۔ ایک متاثرہ خاندان کے فرد نے مایوسی سے کہا،’’ہم نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، لیکن 16 سال بعد بھی قاتل کا پتہ نہیں چلا۔‘‘
فیصلے کے بعد پرگیہ سنگھ ٹھاکر، جو بی جے پی کی رکن پارلیمان بھی ہیں، نے عدالت سے باہر ایک متنازع بیان دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں ایک سادھو تھی، میرا جیوَن تباہ کیا گیا۔ یہ بھگوا کی جیت ہے، ہندو دھرم کی فتح ہے۔‘‘ انہوں نے اسے ایودھیا فیصلے سے بھی بڑا دن قرار دیا ہے۔ ان کے الفاظ میں معصوم جانوں کے لئے کوئی دکھ نہیں، بلکہ یہ ایک سیاسی جشن بن گیا۔ یہ بیانات سن کر سوال اٹھتا ہے کہ کیا انصاف کا مقصد کسی کی فتح یا ہار ہے؟ یہ رائے ان کی ذاتی ہو سکتی ہے، لیکن اس سے عدالتی عمل کی غیر جانبداری پر تو بہر حال سوالات تو اٹھتے ہی ہیں۔
اسی دوران، وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے’’بھگوا دہشت گردی‘‘ کا جھوٹا بیانیہ گھڑا۔ ان کا کہنا تھا۔ ان کے مطابق کوئی ہندو دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔‘‘ یہ بیان فیصلے کے بعد سیاسی تناظر میں آیا ہے، لیکن اس نے عدالتی عمل سے الگ ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ کیا اس طرح کے بیانات انصاف کی غیر جانبداری کو متاثر نہیں کرتے؟ سیاسی بیان بازی کو عدالتی عمل سے الگ رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد نظام پر برقرار رہے۔
این آئی اے کی کارکردگی پھر بھی سوالات کے گھیرے میں ہے۔ گواہوں کا اپنے بیانات سے مکرنا، ثبوتوں کا قانونی معیار پر پورا نہ اترنا، اور تفتیشی خامیوں نے کیس کو کمزور کیا۔ این آئی اے، جو انسداد دہشت گردی کا سب سے بڑا ادارہ ہے، پیچیدہ کیسز میں ثبوت اکٹھا کرنے اور گواہوں کی ساکھ برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ یہ ناکامی صرف ایک ادارے کی نہیں، بلکہ پورے نظام عدل کی کمزوری کو عیاں کرتی ہے۔
مہاراشٹر حکومت کا رویہ بھی زیر بحث آیا ہے۔ 2006 کے ممبئی ٹرین دھماکوں کی بریت کے بعد حکومت نے فوراً سپریم کورٹ میں اپیل کا اعلان کیا گیا، لیکن مالیگاؤں کیس پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔اب سوال یہ سامنے آرہا ہے کہ یہ دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ تاہم، فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ قبل از وقت اس طرح کا الزام مناب نہیں ہے۔ ویسے ملک کے تمام انصاف پسند حساس لوگوں کی زبان پر یہی ایک بات ہے کہ یہ کیس ایک سانحہ نہیں، بلکہ ہمارے نظام کی خامیوں کی داستان ہے۔ چھ معصوم جانوں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے تھا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ملزمان بے قصور ہیں، تو اصل مجرم کون ہیں؟  16 سال بعد بھی جواب نہ ملنا  ہماری ایک شرمناک ناکامی ہے۔ اگر دہشت گردی جیسے سنگین جرم کے خلاف ہمارے ادارے بے بس ہیں، تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟  مالیگاؤں کی یہ کہانی ہمیں ایک سوال دیتی ہے:’’ انصاف کی یہ تلاش کب مکمل ہوگی؟‘‘