تاثیر 10 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سیتامڑھی (مظفر عالم)
باجپٹی اسمبلی حلقہ سے راشٹریہ جنتا دل کے ممبر اسمبلی مکیش کمار یادو نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پانی کے بحران پر موت کے منہ پر جانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ اس بھوک ہڑتال (روزے) میں انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگی لوگوں کے لیے وقف کر دی۔ راجد کے سینئر لیڈر سہ سابق نائب پرمکھ آفتاب عالم منٹو نے کہا کہ ممبر اسمبلی مکیش کمار یادو نے اپنی صحت اور انتظامی ہراسانی کی پرواہ کیے بغیر عوام کے لیے آواز اٹھائی۔ جبکہ 2005 سے لے کر اب تک این ڈی اے حکومت نے اپوزیشن کی طرف سے کہیں بھی کئے گئے تمام جمہوری احتجاج کو کچلنے کا شاندار کام کیا ہے۔ پولس اور حکومت کے جبر کی وجہ سے جب اپوزیشن کسی بھی طرح سے آواز اٹھانے سے ڈرتی ہے تو ممبر اسمبلی مکیش کمار یادو نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر 40 گھنٹے سے زیادہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے ۔ یہ سب عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہوا ہے۔ ورنہ کسی کو یہ بھی یاد نہیں ہوگا کہ 2005 کے بعد سیتامڑھی ضلع میں کسی اپوزیشن لیڈر نے بھوک ہڑتال کا مظاہرہ کیا ہے۔ نیز ڈسٹرکٹ آفیسر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کا رویہ قابل ستائش تھا جنہوں نے نہ صرف بھوک ہڑتال کو صبر و تحمل سے ہونے دیا بلکہ عوامی مفاد سے متعلق تمام مطالبات کو قانونی طریقے سے پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی اور یہ بھی کہا کہ ان کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے۔ اس کے لیے سیتامڑھی ضلع مجسٹریٹ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ممبر اسمبلی نے حکومت کی جابرانہ پالیسی کی پرواہ کیے بغیر عوامی مفاد میں روزہ رکھ کر اپوزیشن کی آواز بلند کی ہے، جس کی 2005 سے کسی نے ہمت نہیں کی، اس کے لیے ممبر اسمبلی مکیش کمار یادو بھی مبارکباد کے مستحق ہیں، وہ عوامی مفاد کے معاملات میں ہمیشہ خود کو آگے رکھتے ہیں۔ ان دونوں سیتامڑھی ضلع پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے، جب کہ حکمراں جماعت کے عوامی نمائندے اپنے انتخابی پروگراموں میں مصروف ہیں، باجپٹی ممبر اسمبلی مکیش کمار یادو اپنی زندگی داؤ پر لگا کر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے ممبر اسمبلی کی اس قربانی کو باجپٹی اور ضلع کے لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ معلوم ہو کہ 7 ستمبر بروز اتوار کو باجپٹی ممبر اسمبلی مکیش کمار نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے اور 8 ستمبر کو شام ہوتے ہوتے ان کا شوگر لیول کافی کم ہوگیا تھا جس وجہ کر ضلع محکمہ میں کھلبلی مچ گئ تھی ضلع مجسٹریٹ رچی پاندے نے پی ایچ ای ڈی محکمہ کے افسران اور باجپٹی بلاک کے بی ڈی او کو پہلے بھیجا گیا مگر مکیش کمار نے نہیں مانا،اس کے بعد خود ضلع آفیسر رچی پاندے ممبر اسمبلی مکیش کمار کو سمجھانے کی کوشش کی بڑی مُشکل سے مکیش کمار نے بات مان لی اور جوس پی لیا ،اس کے بعد ضلع اسپتال بھیجا گیا بہتر علاج کے لئے پٹنہ ریفر کردیا گیا جہاں ابھی بھی زیر علاج ہیں

