دہلی تشدد معاملہ : شرجیل امام کے بعد اب گلفشاں فاطمہ نے بھی ضمانت کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا

تاثیر 8 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 8 ستمبر: دہلی فسادات کی منصوبہ بندی کے ملزم شرجیل امام کے بعد اب دوسری ملزمہ گلفشاں فاطمہ نے بھی سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ شرجیل امام اور گلفشاں فاطمہ دونوں نے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ نے 2 ستمبر کو دہلی فسادات کی منصوبہ بندی کرنے والے نو ملزمین کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ان ملزمان میں اطہر خان، عبدالخالد سیفی، محمد سلیم خان، شفا الرحمان، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ اور شاداب احمد شامل ہیں۔ ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ اگر ملزم ملک کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو ان کے لیے بہترین جگہ جیل ہے۔ مہتا نے کہا تھا کہ دہلی میں فسادات پہلے سے منصوبہ بند تھے۔ جس طرح سے فسادات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی وہ کسی کو ضمانت کا حق نہیں دیتا۔ یہ کوئی عام جرم نہیں ہے بلکہ ایک منصوبہ بند فساد کی منصوبہ بندی کا معاملہ ہے۔ مہتا نے کہا تھا کہ فسادات کی سازش کرنے والے ملزم پورے ملک میں اس کا اثر دیکھنا چاہتے ہیں۔