تاثیر 25 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
جموں, 25 ستمبر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج اعلان کیا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حالیہ سیلاب اور مٹی کے تودوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے تمام متاثرہ خاندانوں کو پانچ مرلے زمین فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے رہائشی مکانات اس زمین پر تعمیر کرسکیں۔وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان بلاور کے دگگین علاقے کے رہائشیوں سے بات چیت کے دوران کیا جن کے مکانات اور روزگار حالیہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے ضلع کے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایم ایل اے بنی ڈاکٹر رمیشور سنگھ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
عمر عبداللہ نے عوام کو ہر ممکن امداد اور بازآبادکاری کی یقین دہانی کراتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ بروقت ریلیف اور بحالی کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 جموں و کشمیر کے لیے انتہائی تباہ کن رہا ہے،مارچ اپریل کی خشک سالی سے لے کر اگست-ستمبر کی موسلا دھار بارشوں، سیلاب اور مٹی کے تودوں تک، نقصانات بے مثال ہیں۔ کٹھوعہ سے کپواڑہ تک تباہی کی شدت نظر آتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نقصانات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ طوفانی بارشوں سے 350 سے زائد پل، تقریباً 2000 کلومیٹر سڑک نیٹ ورک، ہزاروں ہیکٹر زرعی اراضی اور کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، جبکہ سرکاری و نجی عمارتوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحالی کے بڑے چیلنجز کے پیش نظر ریاستی حکومت مرکزی حکومت سے ایک جامع ریلیف و بازآبادکاری پیکیج کی توقع رکھتی ہے۔

