تاثیر 23 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاسی فضا میں 2025 کے اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں شباب پر ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کسی بھی لمحے انتخابی شیڈول کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمت عملی کاروں نے اپنی مشینری کو مکمل رفتار دے دی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما امت شاہ کی پوری توجہ ابھی بہار پر ہے۔ 27 ستمبر کو ان کا بہار دورہ طے ہے۔ان کا یہ تازہ ترین بہار دورہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نریندر مودی حکومت کی اتحادی جماعت (این ڈی اے) بہار کے 243 نشستوں والے اس میدانِ جنگ کو جیتنے کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑے گی۔ دوسری جانب، ووٹر لسٹ کی خصوصی شدید نظرثانی (ایس آئی آر) کا کام 30 ستمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی شاید اس سلسلے کا تنازعہ بھی ختم ہو جائے گا۔
امت شاہ کا یہ دورہ کوئی رسمی دورہ نہیں،بلکہ بی جے پی کی علاقائی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ 27 ستمبر کو وہ ارریہ، سارن اور ویشالی اضلاع میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں آس پاس کے اضلاع سے بھی عہدیدار شریک ہوں گے۔ یہ تینوں اضلاع بہار کی متنوع جغرافیائی اور سماجی ساخت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ اس دورے میں وہ ارریہ ، سارن اور ویشالی کے مختلف علاقوں میں میٹنگ کرنے والے ہیں۔امت شاہ کی ان میٹنگز کا مقصد انتخابی تیاریوں کو مزید تیز کرنا اور ووٹرز کو متحرک بنانا ہے۔ بی جے پی نے ریاست کو پانچ زونز میں تقسیم کیاہے، اور یہ دورہ اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ 18 ستمبر کو ڈیہری آن سون اور بیگوسرائے میں 20 اضلاع کے رہنماؤں سے کی گئی میٹنگز کے بعد اب باقی تین زونز کی باری ہے۔ 10 دنوں کے اندر یہ شاہ کا دوسرا دورہ ہے، جبکہ 3 ستمبر کو دہلی میں بہار بی جے پی کے رہنماؤں کے ساتھ تیاریوں کی جائزہ میٹنگ ہو چکی ہے۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی نہ صرف تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ مقامی مسائل،جیسے کسانوں کی پریشانیاں، مہاجرین کی واپسی اور ترقیاتی منصوبوںکو اپنے بیانیے کا حصہ بنا نے کی کوشش میں مصروف ہے۔
تاہم، انتخابی شیڈول کی ممکنہ شکل بھی اس سیاسی کھیل کو دلچسپ بنا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن دشہرہ کے بعد بہار کا دورہ کر کے تیاریوں کا جائزہ لے گا اور 7 اکتوبر کے آس پاس شیڈول کا اعلان بھی ممکن ہے۔ بہار اسمبلی کی میعاد 22 نومبر تک ہے، اس لئے انتخابات دو مراحل میں 2 سے 10 نومبر کے درمیان ہونے اور نتائج 15 نومبر سے پہلے آنے کی توقع ہے۔ اس بار کا الیکشن 2020 کے تین مراحل والے انتخابات سے مختلف ہوگا، کیونکہ وقت کی کمی کی وجہ سے صرف دو مراحل کا منصوبہ ہے۔ الیکشن کمیشن کی یہ حکمت عملی بڑے تہواروں،دشہرہ، دیوالی اور چھٹھ، کے مدنظر بنائی گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات زیرِ بحث ہے کہ چھٹھ کے فوراً بعد انتخابات ہونے سے مہاجرین کی واپسی کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بہار سے باہر کام کرنے والے لاکھوں لوگ تہوار پر واپس آتے ہیں، اور اگر انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ان کی دوبارہ واپسی مشکل ہو جائے گی۔ اسی لئے، آئی سی آئی اس عوامی پہلو کو ترجیح دے رہا ہے۔
واضح ہو کہ 2020 میں 57 فیصد ووٹنگ ریٹ کے باوجود بہار کو سب سے فعال سیاسی ریاست سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بار توقع ہے کہ یہ شرح 65 فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ چھٹھ کے بعد ہونے والے انتخابات سے ظاہر ہے مہاجرین کی شرکت بڑھے گی۔ یہ طبقہ عظیم اتحاد بالخصوص آر جے ڈی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کا ووٹ بینک مانا جاتا ہے۔ظاہر ہےیہ صورتحال بی جے پی کے لئے چیلنجنگ ہوگی۔ بی جے پی کی زونل حکمت عملی اسی ووٹر بیس کو توڑنے کی کوشش ہے، جبکہ جنتا دل (یو) سمیت ا ین ڈی اے کی دیگر تمام جماعتیں بی جے پی کی حکمت عملی کو دھاردار بنانے میں معاون ہونگیں۔
مجموعی طور پر مذکورہ تمام عوامل بہار کی انتخابی سیاست کو ایک نیا رخ دینے کے لئے تیار ہیں۔امت شاہ جیسے سینئر رہنما کا مسلسل بہار دورہ بی جے پی کی مضبوط حکمت عملی کو واضح کرتا ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن بھی بہار میں شفافیت کے ساتھ انتخابی کارروائیوں کو مکمل کرانے کے معاملے میں سنجیدہ نظر آ رہاہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ بہارکے متنوع معاشرتی نظام اور علاقائی تقسیم انتخابی نتائج کو غیر متوقع بنا سکتی ہے۔ اگر بی جے پی اپنی تیاریوں کو ووٹرز کی اصل پریشانیوں،بے روزگاری، سیلاب اور مہنگائ سے جوڑ لے تو اس کا فائدہ اس کو ضرور ملے گا۔تاہم، ماہرین مان رہے ہیں کہ اس بار کے انتخابات نہ صرف اقتدار کی جنگ تک محدود ہوں گے بلکہ ان کے ذریعہ بہار کی ترقی کی راہ کی بنیاد بھی رکھی جائیگی۔آنے والے انتخابات میں این ڈی اے کی گرفت مضبوط رہےگی، یا عظیم اتحاد کی انتخابی سیاست سر چڑھ کر بولے گی ؟ یہ وقت ہی بتائے گا، لیکن تیاریاں تو ابھی سے اپنے عروج پر ہیں۔
******

